جنوبی افریقا سے بدترین شکست: کیا بھارت اب سیمی فائنل میں جا پائے گا؟

بھارت کی کوالیفکیشن کا فیصلہ نیٹ رن ریٹ پر ہوگا
شائع 23 فروری 2026 09:23am

آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے سپر 8 مرحلے میں بھارت کی سیمی فائنل تک رسائی کی امیدوں کو اُس وقت بڑا دھچکا لگا جب سوریہ کمار یادیو کی قیادت میں ٹیم کو اتوار کے روز احمد آباد میں کھیلے گئے اپنے پہلے میچ میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 76 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

میچ میں جنوبی افریقہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز بنائے۔ ڈیوڈ ملر نے 63 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی جبکہ ڈیوالڈ بریوس نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 45 رنز اسکور کیے۔ بھارتی باؤلرز میں جسپریت بمراہ سب سے نمایاں رہے جنہوں نے 3 وکٹیں لے کر 15 رنز دیے۔

ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم ابتدا ہی سے دباؤ کا شکار نظر آئی اور رن ریٹ کے تقاضوں کو پورا نہ کر سکی۔ پوری ٹیم 111 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ جنوبی افریقہ کے مارکو یانسن نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

اس شکست کے بعد بھارت کو سیمی فائنل (فائنل فور) میں جگہ یقینی بنانے کے لیے اپنے باقی دونوں میچزویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے خلاف جیتنا ہوں گے۔ اگر بھارت صرف ایک میچ جیتتا ہے تو پھر اس کی کوالیفکیشن کا انحصار دیگر نتائج اور نیٹ رن ریٹ پر ہوگا۔

۔

اگر بھارت اپنے دونوں میچز جیت لیتا ہے تو اس کے دو میچز سے 4 پوائنٹس ہوجائیں گے۔ عمومی طور پر یہ پوائنٹس سیمی فائنل تک رسائی کے لیے کافی ہوسکتے ہیں، بشرطیکہ دو دیگر ٹیمیں بھی 4 پوائنٹس حاصل نہ کرلیں۔

یہ صورت اُس وقت بن سکتی ہے جب جنوبی افریقہ اپنے باقی میچز میں سے صرف ایک جیتے اور ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے درمیان میچ کی فاتح ٹیم جنوبی افریقہ کو بھی شکست دے دے۔ ایسی صورت میں بھارت کی کوالیفکیشن کا فیصلہ نیٹ رن ریٹ پر ہوگا۔

۔

اگر بھارت صرف ایک میچ میں کامیاب ہوتا ہے تو اسے یہ امید رکھنا ہوگی کہ جنوبی افریقہ اپنے تمام میچز جیت لے۔ اس کے ساتھ ایک اور شرط یہ ہوگی کہ بھارت کی فتح ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے درمیان میچ جیتنے والی ٹیم کے خلاف ہو۔ اس صورت میں بھارت، زمبابوے اور ویسٹ انڈیز تینوں کے پاس 2،2 پوائنٹس ہوں گے اور ایک بار پھر فیصلہ مکمل طور پر نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر ہوگا۔

یوں بھارت کی سیمی فائنل تک رسائی اب نہ صرف اپنی کارکردگی بلکہ دیگر میچز کے نتائج اور نیٹ رن ریٹ سے بھی مشروط ہوچکی ہے۔