اے آئی نے ملازمتیں چھیننا شروع کردیں، کمپنی سے دو ہزار سافٹ ویئر انجینئرز برطرف

پچھلے ماہ ایمیزون نے بھی اپنے 16 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
شائع 25 فروری 2026 12:58pm

آسٹریلیا کی معروف لاجسٹکس سافٹ ویئر کمپنی وائز ٹیک گلوبل نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے دو سالوں میں اپنے تقریباً 2 ہزار ملازمین کو فارغ کرے گی۔ کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ اس کے سافٹ ویئر اور اندرونی نظام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے انضمام کے بعد کیا گیا ہے۔

ملازمین کی یہ کمی کمپنی کے مجموعی عملے کا تقریباً 29 فیصد بنتی ہے، جبکہ وائز ٹیک کے دنیا بھر میں 7 ہزار سے زائد ملازمین ہیں۔

کمپنی نے کہا کہ یہ تبدیلی بنیادی طور پر پروڈکٹ ڈیولپمنٹ، کسٹمر سروس اور دیگر شعبوں کو متاثر کرے گی۔

وائز ٹیک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زوبن اپو نے کہا کہ ”سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ نے کئی دہائیوں میں سب سے بڑی تبدیلی دیکھی ہے، اب انجینئرنگ کے بنیادی کام کے طور پر روایتی کوڈنگ یا انسان کے خود کوڈ لکھنے کا زمانہ ختم ہو گیا ہے۔“

یہ آسٹریلیا میں اے آئی سے جڑے سب سے بڑے عملے میں کٹوتی کے واقعات میں سے ایک ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ اس کے امریکی ذیلی ادارے ای ٹو اوپن (E2open) میں بھی 50 فیصد تک ملازمین کی کمی متوقع ہے۔ یہ یونٹ اگست 2025 میں 2.1 بلین امریکی ڈالر میں خریدا گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی اعلان کے ساتھ کمپنی کے منافع میں اضافہ بھی سامنے آیا ہے۔

وائز ٹیک نے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 114.5 ملین امریکی ڈالر کا خالص منافع حاصل کیا، جو مارکیٹ کے اندازے سے 6 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے بعد کمپنی کے حصص کی قیمت میں 10 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔

البتہ، کمپنی کے شیئرز اب بھی 2024 کے نومبر میں اپنی بلند ترین سطح سے 68 فیصد نیچے ہیں، کیونکہ سابق سی ای او رچرڈ وائٹ سے متعلق اسکینڈلز اور ادائیگیوں کے الزامات کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب دنیا بھر میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے باعث اپنے اسٹاف میں کمی کر رہی ہیں۔ صرف پچھلے ماہ ایمیزون نے بھی اپنے 16 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا تھا۔