کراچی میں خامنہ ای کی شہادت پر احتجاج، امریکی قونصل خانے پر حملے کے دوران 7 افراد جاں بحق
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں، اس دوران مظاہرین نے امریکی قونصل خانے پر حملہ کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی اور آگ بھی لگا دی۔
مائی کولاچی امریکن قونصلیٹ کے قریب فائرنگ میں سات افراد جاں بحق اور 12 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ چھ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
مظاہرین نے سلطان آباد پل کے نیچے ٹریفک پولیس چوکی کو بھی آگ لگا دی۔
علاوہ ازیں شہر کے بعض مقامات پر بھی کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ شہر کے اہم علاقوں نمائش چورنگی، عباس ٹاؤن اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور سڑکوں پر نعرے بازی کی۔
ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا ہے اور اب حالات قابو میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حساس تنصیبات اور ریڈ زونز کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف مقامات پر تعینات ہیں اور علاقے کی نگرانی جاری ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق قونصل خانے کے اطراف ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی اور کچھ مظاہرین نے پتھراؤ کیا جبکہ فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش جاری ہے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرامن رہیں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔
لاہور میں بھی مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ کے باہر توڑ پھوڑ کی اور امریکی قونصلیٹ کے سامنے سیکیورٹی کیمپ اکھاڑ دیا۔














