کویت میں امریکی فضائیہ کا ایف 15 طیارہ گر کر تباہ

طیارہ گرنے کی ویڈیو وائرل، پائلٹ محفوظ
اپ ڈیٹ 02 مارچ 2026 12:36pm

کویت میں ایک امریکی جنگی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، تاہم پائلٹ محفوظ رہا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارہ ایف 15 تھا جو پیر کے روز پیش آنے والے حادثے میں زمیں بوس ہوا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں امریکی ایف 15 ای اسٹرائیک ایگل جنگی طیارے کو شعلوں کے ساتھ نیچے کی جانب گھومتے ہوئے گرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پائلٹ محفوظ رہا ہے۔

ویڈیو میں دو انجنوں والے لڑاکا طیارے کو تیزی سے زمین کی جانب اترتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس کے ایک انجن سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوتے ہیں۔ طیارہ دیکھتے ہی دیکھتے نیچے گرتا ہے اور منظر سے غائب ہو جاتا ہے۔

واضح رہے کہ کویت میں صبح سے اب تک تیسری بار سائرن بج رہے ہیں، کچھ دیر پہلے کویت نے ایرانی ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

کویت میں امریکی سفارتخانے سے بھی دھواں اٹھ رہا ہے، کچھ دیر پہلے ایران نے کویت پر ڈرون حملہ کیا تھا، کویت میں ایرانی ڈرونز کا ملبہ گرنے سے دو افراد زخمی ہوگئے۔ ڈرونز کا ملبہ مینا الاحمدی ریفائنری کے قریب گرے ہیں۔

تاحال اس واقعے کے مقام اور وقت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ امریکی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر ویڈیو کی تصدیق یا حادثے کی وجوہات سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ گردش کرنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ پائلٹ، جو مبینہ طور پر امریکی شہری ہے، ایجیکشن سیٹ کے ذریعے محفوظ نکلنے میں کامیاب رہا۔

یف 15 ای اسٹرائیک ایگل ایک دوہری صلاحیت کا حامل لڑاکا طیارہ ہے جو فضاء سے فضاء اور گہرے حملوں دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ جدید آلات، بیک وقت متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت اور مختلف اقسام کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا ڈیزائن ہر موسم میں آپریشن اور فضائی برتری سے لے کر زمینی اہداف پر حملوں تک مختلف مشنز کے لیے موزوں ہے۔

واقعے کی سرکاری طور پر فوری تصدیق امریکی یا کویتی حکام کی جانب سے نہیں کی گئی۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ طیارہ امریکی تھا جبکہ کچھ اطلاعات میں اسرائیلی طیارے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا، تاہم اس حوالے سے آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ ممکنہ طور پر ’فرینڈلی فائر‘ کا نتیجہ ہو سکتا ہے جس میں امریکی فضائیہ کا طیارہ نشانہ بنا۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ یا پینٹاگون کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔