آپریشن غضب للحق: اب تک 481 افغان طالبان ہلاک، 226 پوسٹیں، 198 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ

زخمی افغان اہلکاروں کی تعداد 696 سے زائد ہے، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
شائع 04 مارچ 2026 04:31pm

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن ’غضب للحق‘ کے حوالے سے تازہ ترین تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کارروائی کے دوران افغان طالبان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے، اب تک 481 افغان طالبان اہلکار ہلاک اور 696 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

افغانستان سے دہشت گردی اور بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے آپریشن غضب للحق کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

بدھ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے آپریشن غضب للحق کے دوران افغان طالبان کے خلاف کی جانے والی جوابی کارروائیوں کے اعداد و شمارجاری کیے ہیں۔

عطا تارڑ کے مطابق آپریشن کے دوران افغان طالبان کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، اب تک آپریشن میں ہلاک ہونے والے افغان طالبان اہلکاروں کی تعداد 481 ہوگئی ہے جب کہ افغان طالبان کے 696 سے زائد اہلکار زخمی ہیں۔

وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ افغان طالبان رجیم کی 226 چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئی ہیں اور پاکستان سیکیورٹی فورسز نے 35 افغان پوسٹوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک افغان طالبان رجیم کے 198 ٹینکس، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ بھی اس آپریشن میں تباہ کی گئی ہیں جب کہ افغانستان بھر میں 56 مقامات کو مؤثر انداز میں فضائی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات 26 فروری کی رات پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج کا آپریشن غضب للحق جاری ہے۔

پاک فوج نے افغانستان کی حدود کے اندر مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کیں اور کابل، قندھار اور پکتیا سمیت دیگر مقامات پر موجود عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور کئی چیک پوسٹیں تباہ کیں جب کہ پاکستان نے افغانستان پر واضح کیا کہ اسے کالعدم ٹی ٹی پی یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔