مرغی کو پکانے سے پہلے دھونا چاہیے یا نہیں: سائنس کیا کہتی ہے؟

ڈاکٹر کاراتزاس کے مطابق بیکٹیریا کو ختم کرنے کا واحد قابل اعتماد طریقہ کیا ہے؟
شائع 05 مارچ 2026 12:30pm

یہ سوال کہ کیا مرغی کو پکانے سے پہلے دھونا چاہیے یا نہیں، ایک اہم سوال ہے اور ہمیشہ بحث کا موضوع رہا ہے۔ مغربی ممالک میں سرکاری فوڈ سیفٹی ہدایات بالکل واضح ہیں کہ مرغی کونہ دھوئیں۔ تاہم دنیا کے بہشتر حصوں میں یہ عمل صفائی کا خیال رکھنے کے احساس سے جڑا ہے۔

بی بی سی نیوز کے مطابق جمیکن ٹی وی شیف اور مصنفہ اپریل جیکسن اکثر اپنی ویڈیوز میں مرغی دھونے کے مناظر دکھاتی ہیں، وہ کہتی ہیں، ’لوگ کہیں گے کہ مجھے مرغی کٹورے یا سنک میں نہیں دھونا چاہیے، کچھ اسے گندا یا نا مناسب رویہ سمجھتے ہیں۔‘

دوسری طرف لوگ سمجھتے ہیں کہ بغیر دھوئے مرغی پکانا اور کھانا صحت کے لیے مضر ہے۔

اسی طرح مراکش سے تعلق رکھنے والی کانٹینٹ کریئیٹر فدوا ہلیلی نے اپنی والدہ کا دس مرحلوں پر مشتمل مرغی دھونے کا طریقہ کی وڈیو شیئر کی تھی۔ وہ اس پر آنے والے تبصروں سے لطف اندوز ہوتی ہیں اور کہتی ہیں، ”لوگ لکھتے ہیں کہ اسی لیے آپ دوسروں کے گھروں میں نہیں کھاتیں یا دفتر میں سب کے ساتھ کھانے میں شریک نہیں ہوتیں۔“

سائنس کیا کہتی ہے؟

برطانیہ کی یونیورسٹی آف ریڈنگ کے فوڈ مائیکروبیالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر کیمون اینڈریاس کاراتزاس کے مطابق، کچی مرغی میں عام طور پر کیمپائلوبیکٹر اور سالمونیلا جیسے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں، جو انسانی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں اور فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین ہمیشہ تاکید کرتے ہیں کہ مرغی کو اچھی طرح پکایا جائے اور خام حالت میں دھونا یا اس کے رس کو دیگر کھانوں سے الگ رکھنا چاہیے۔

ڈاکٹر کاراتزاس نے تجربے میں کچی مرغی پر ایک کیمیائی مادہ لگایا جس سے بیکٹیریا الٹرا وائلٹ روشنی میں دکھائی دیے۔ انہوں نے مرغی کو نلکے کے نیچے دس سیکنڈ سے بھی کم وقت کے لیے دھویا، اور دیکھا کہ پانی کے چھینٹے سنک، کاؤنٹر، برتن اور حتیٰ کہ قریب موجود سلاد اور سبزیوں پر پھیل گئے۔

ان کا کہنا ہے، ”اگر کیمپائلوبیکٹر یا مرغی کے رس کا صرف ایک چھوٹا سا قطرہ کسی چیز پر لگ جائے، تو وہ آپ کو آسانی سے بیمار کر سکتا ہے۔“

سرکاری ادارے فوڈ اسٹینڈرڈز ایجنسی کے مطابق، صرف برطانیہ میں ہر سال تقریباً دو لاکھ پچاس ہزار افراد اس انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں۔ علامات عام طور پر انفیکشن کے دو سے پانچ دن بعد ظاہر ہوتی ہیں، جن میں سب سے عام ، اسہال ہے، جو اکثر خون آلود ہوتا ہے۔ دیگر علامات میں پیٹ درد، بخار، متلی، قے اور سر درد شامل ہیں۔

بزرگ یا زیادہ عمر کے افراد اور بچے شدید بیماری کے زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں علامات طویل یا شدید ہو سکتی ہیں، جس کے لیے اینٹی بایوٹک علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

یہاں ایک اہم بات بھی قابلِ غور ہے کہ مغربی دنیا میں مرغی عموماً صنعتی طور پر سخت نگرانی کے تحت صاف حالت میں فروخت ہوتی ہے، لیکن بیشتر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے، گوشت مقامی سطح پر یا کھلی جگہوں میں ذبح کیا جاتا ہے، جہاں صاف پانی اورحفظانِ صحت اور صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا اور صفائی کا وہ معیار نہیں ہے جو مغربی ممالک میں فالو کیا جاتا ہے، ایسی صورت میں مرغی بغیر دھوئے پکا نے اور کھانے کا تصور ہی پریشانی میں مبتلا کردیتا ہے لہٰذا ایسے حالات میں لوگ مرغی دھونا ضروری سمجھتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ چکن کو فریج کے نچلے شیلف میں رکھیں، کچا چکن نہ دھوئیں، تیاری کے بعد ہاتھ اور برتن اچھی طرح صاف کریں۔ چکن کو مکمل طور پر پکائیں تاکہ بیکٹیریا ختم ہو جائیں۔

امریکی وفاقی صحت ادارے سی ڈی سی سنٹرز فار ڈِزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن بھی اپنی سرکاری ویب سائٹ پر خام چکن دھونے سے منع کرتا ہے کیونکہ اس سے جراثیم پھیل سکتے ہیں، اس کے بجائے چکن کو براہِ راست 165 ڈگری فارن ہائیٹ تک پکانا محفوظ طریقہ مانا جاتا ہے۔

شیف جیکسن نے بی بی سی کو بتایا کہ جب پہلی بار برطانیہ آئیں تو انہوں نے مرغی کی پیکنگ پر یہ انتباہ دیکھا کہ ’کچی مرغی کو نہ دھویا جائے‘ اس پر حیران ہو کرانہوں نے وہ تصویر اپنے خاندان کو بھیج دی۔ وہ سمجھتی ہیں کہ سائنسی نقطہ نظر درست ہے، ان کے مطابق مرغی دھونے پر پانی بہت گدلا ہو جاتا ہے اور ایسا کھانا پسند نہیں کیا جاتا۔

بہت سے افراد کے نزدیک اصل مسئلہ مرغی دھونے کا طریقہ ہے۔ بی بی سی سے بات کرنے والے شیف مرغی کو ایک برتن میں دھوتے ہیں، اکثر سرکے یا لیموں کے ساتھ، اور پھر اردگرد کی جگہ کو جراثیم کش محلول سے صاف کرتے ہیں۔

فدوا ہلیلی کے مطابق ان کی والدہ سنک کو گرم پانی اور صابن سے اچھی طرح صاف کرتی ہیں اور اینٹی بیکٹیریل اسپرے بھی استعمال کرتی ہیں۔

شیف جیکسن کا کہنا ہے کہ چکن کو نمکین پانی میں بھگونا، بنیادی طور پر وہی عمل ہے جو مرغی دھونے کا متبادل سمجھا جا سکتا ہے اور اس طریقے کی کبھی مخالفت بھی نہیں کی گئی۔

ڈاکٹر کاراتزاس کے مطابق، مرغی کو ایک برتن میں دھونا کچھ حد تک محفوظ ہو سکتا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس طریقے میں بھی بیکٹیریا پھیلنے کا خطرہ موجود رہتا ہے اور لیموں یا سِرکے سے دھونا بیکٹیریا کی زیادہ مقدار کو مؤثر طریقے سے کم نہیں کرتا۔ ان کے مطابق، بیکٹیریا کو ختم کرنے کا واحد قابل اعتماد طریقہ مرغی کو ’اچھی طرح پکانا‘ ہے۔