سری لنکا کے قریب ایک اور ایرانی جنگی بحری جہاز نشانے پر آگیا، مدد کی اپیل

جہاز کو ابھی تک بندرگاہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی ہے، سری لنکن حکام اور جہاز کے درمیان رابطہ قائم ہے۔
اپ ڈیٹ 05 مارچ 2026 04:00pm

امریکا کی جانب سے ایران کا ایک جنگی بحری جہاز ڈبونے کے بعد سری لنکا کی سمندری حدود کے قریب دوسرے ایرانی جنگی جہاز کی موجودگی نے خطے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ عرب خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق یہ جہاز ان تین ایرانی بحری جہازوں کے گروہ کا حصہ ہے جو بھارت میں منعقدہ ایک بین الاقوامی بحری تقریب میں شرکت کے بعد واپس لوٹ رہا تھا۔

گزشتہ روز ایرانی جہاز ’دینا‘ کو امریکا نے سمندر میں ڈبو دیا تھا جس میں 80 سے زائد ایرانی اہلکار مارے گئے تھے۔ اب یہ دوسرا جہاز سری لنکا کے قریب پہنچا ہے اور اطلاعات کے مطابق اس نے مقامی حکام سے رابطہ کیا ہے۔

جہاز کے عملے نے بتایا ہے کہ انہیں انجن میں خرابی کا سامنا ہے اور انہوں نے بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت مانگی ہے۔

اگرچہ ابھی تک انہیں بندرگاہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی ہے، لیکن اطلاعات کے مطابق سری لنکن حکام اور جہاز کے درمیان رابطہ قائم ہے۔

سری لنکا کے میڈیا منسٹر نے اس صورتحال پر پارلیمنٹ کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت دوسرے جہاز کے بارے میں تمام حقائق سے آگاہ ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مداخلت کر رہی ہے، تاکہ جانی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے اور علاقائی امن کو برقرار رکھا جا سکے۔

سری لنکن وزیر کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سری لنکا اس معاملے میں کچھ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سری لنکا کی حکومت اس وقت ایک انتہائی نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ اگرچہ اس نے جاری جنگ میں کسی بھی فریق کی حمایت نہیں کی ہے اور وہ تنازع کے مرکز سے دور ہے، لیکن اس ملک کو تقریباً اس لڑائی میں گھسیٹ لیا گیا ہے۔