ایران نے خلیجی ممالک پر حملہ کر کے دھوکا دیا، قطری وزیراعظم
قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی کا کہنا ہے کہ ایران نےہمیں دھوکادیا اس باوجود فریقوں کو کشیدگی کم کرنی چاہیے اور حملےاب بند ہوجانے چاہیے۔
غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں قطری وزیراعظم نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے آغاز کے صرف ایک گھنٹے بعد ہی قطر اور دیگر خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا گیا، حالانکہ یہ ممالک اس تنازع کا براہ راست حصہ نہیں تھے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمان نے کہا کہ قطر نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے خلاف کسی جنگ میں حصہ نہیں لے گا۔ ان کے بقول قطر طویل عرصے سے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھے ہوئے تھا اور ہمیشہ خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، لیکن موجودہ حملوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملے ایک خطرناک غلط اندازہ ہیں جو پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت قطر ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے، تاہم ملک کی دفاعی اور سیکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔
قطری وزیراعظم نے بتایا کہ حالیہ حملوں کے دوران ہوائی اڈوں، پانی کی فراہمی کے نظام اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق تقریباً 25 فیصد حملوں میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کا براہ راست جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔
شیخ محمد بن عبدالرحمان نے کہا کہ قطر دنیا کو تقریباً 20 فیصد گیس فراہم کرتا ہے اور کھاد پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ اگر قطر کی توانائی اور بنیادی تنصیبات متاثر ہوئیں تو اس کے اثرات عالمی معیشت، خوراک کی فراہمی اور توانائی کی منڈیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران ہمارا پڑوسی ہے اور اس کے ساتھ رہنا ہماری تقدیر ہے، لیکن موجودہ بحران کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق تمام فریقوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔
قطری وزیراعظم نے امریکا سمیت دیگر عالمی طاقتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ خطے میں تناؤ کم کرنے میں کردار ادا کریں، کیونکہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو پورا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔












