پاسدارانِ انقلاب کے حملے، خرم شہر اور فتاح میزائلوں سے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا
پاسدارانِ انقلاب کے حملے، خرم شہر اور فتاح میزائلوں سے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ’آپریشن وعدۂ صادق 4‘ کا 30 واں مرحلہ شروع کر دیا ہے جس کے دوران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ کارروائی رمضان المبارک کے انیسویں روز کے موقع پر کی گئی اور اسے ’امام علی‘ کے کوڈ نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے ساتھ ہی کیے گئے۔
ایرانی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران مائع اور ٹھوس ایندھن سے چلنے والے مختلف میزائل استعمال کیے گئے جن میں خرم شہر، فتاح اور خیبر میزائل شمل ہیں، جبکہ اس کے ساتھ اسٹریٹیجک ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔ پاسداران انقلاب کا دعویٰ ہے کہ تمام میزائل اور ڈرون اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔
ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی اہداف کے خلاف کی گئی۔ تاہم ان حملوں سے ہونے والے نقصانات یا ہلاکتوں کے بارے میں آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق حملوں کے دوران تل ابیب، حیفا اور وسطی علاقوں میں ایئر ریڈ سائرنز بجائی گئیں، اور دفاعی نظام نے میزائلوں کو فضا میں روکنے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق میزائل کے ٹکڑے ایک رہائشی عمارت پر گرے، جس سے شدید نقصان ہوا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
ایرانی حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس کے آسمان پر میزائلوں کی پرواز کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ریسکیو ٹیموں نے ملبے کے نیچے موجود افراد کی تلاش شروع کر دی ہے جبکہ شہری حفاظتی پناہ گاہوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں حالیہ حملے شدت کے ساتھ اضافہ کر رہے ہیں اور خطے میں صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے۔
دوسری جانب جنوبی لبنان میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سارجنٹ فرسٹ کلاس ماہر خطار شامل ہیں جبکہ دوسرے فوجی کا نام بعد میں جاری کیا جائے گا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی لبنان میں ایک فوجی چوکی کے قریب پیش آیا جو اسرائیلی سرحدی بستی منارا کے سامنے واقع ہے۔ ابتدائی فوجی تحقیقات کے مطابق علاقے میں کارروائی کے دوران ایک پیوما بکتر بند گاڑی کو نکالنے کے لیے فوج نے ایک اور پیوما گاڑی اور دو ڈی 9 بکتر بند بلڈوزر بھیجے تھے۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران بلڈوزروں میں سے ایک کو ایک گولہ لگا جو ممکنہ طور پر اینٹی ٹینک میزائل یا مارٹر تھا۔ حملے کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں دونوں فوجی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک افسر معمولی زخمی ہوا۔
خطے کے دیگر ممالک میں بھی کشیدگی کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے شہر الفجیرہ میں آئل انڈسٹری زون میں ڈرون کے ملبے گرنے کے باعث آگ لگنے کی اطلاع ملی تاہم حکام کے مطابق صنعتی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں۔ کویت کے سبیہ پاور اور واٹر پلانٹ میں لگنے والی آگ پر بھی قابو پا لیا گیا ہے۔
بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق جزیرہ سترہ پر ایرانی ڈرون حملے میں متعدد شہری زخمی ہوئے جبکہ کئی گھروں کو نقصان پہنچا۔ دوسری جانب امریکا نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سعودی عرب میں موجود اپنے سفارتی عملے کو واپس بلانے کا حکم دے دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اب خطے کے دیگر ممالک کو بھی متاثر کر رہی ہے جس کے باعث مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔














