ایران: نئے رہبرِ معظم کے انتخاب کے بعد بیعت کا سلسلہ شروع، عوام سڑکوں پر نکل آئے

مجلسِ خبرگان کی اپیل کے بعد ملک بھر میں نئے رہبر کے ہاتھ پر بیعت کا سلسلہ جاری ہے
شائع 09 مارچ 2026 02:45pm

ایران کی مجلسِ خبرگانِ رہبری (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو اکثریتِ رائے سے اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ جس کے بعد بعد ملک بھر میں بیعت کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

سید مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی شہادت کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے ہیں جو 1989 میں امام خمینی کے انتقال کے بعد 37 برس تک ایران کے سپریم لیڈر رہے۔ مجلسِ خبرگانِ رہبری نے پیر کی صبح انہیں اسلامی انقلاب کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا، اس طرح ایران کے اسلامی انقلاب کے تیسرے سپریم لیڈر بن گئے ہیں۔

ایرانی آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اعلیٰ درجے کا عالمِ دین (مجتہد) ہونے کے ساتھ سیاسی اور انتظامی صلاحیتوں کا حامل ہو۔

مجلسِ خبرگان کی جانب سے باضابطہ توثیق کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کی جگہ ایران کے سیاسی و مذہبی سربراہ اور مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

مجلسِ خبرگان نے عوام، دانشوروں اور معاشرے کے دیگر طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ نئے رہبر کے ہاتھ پر بیعت کریں۔ اس کے بعد ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے نئے رہبر کے ساتھ وفاداری کے اظہار کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

ایران میں سپریم لیڈر کے لیے صدارتی طرز کی کوئی عوامی تقریبِ حلف برداری نہیں ہوتی۔ نئے سپریم لیڈر مجلسِ خبرگان کے سامنے اپنے عہدے کی ذمہ داریوں کا عہد کرتے ہیں، جس کے فوراً بعد اسمبلی کے اراکین، صدر، وزراء اور عسکری قیادت نئے رہبر کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں یا ان کی اطاعت کا اعلان کرتے ہیں۔

ایرانی نظام میں بیعت کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ روایتی طور پر بیعت کا عمل عوامی اجتماعات اور عسکری قیادت کی جانب سے نئے رہبر کے ساتھ وفاداری کے عہد سے شروع ہوتا ہے۔

اسی تناظر میں پاسدارانِ انقلاب اور دفاعی کونسل نے بھی نئے کمانڈر اِن چیف سے وفاداری کا باقاعدہ عہد کر لیا ہے، جب کہ جید علماء نے اس تقرری کو ملک کے لیے روحانی اطمینان کا باعث قرار دیتے ہوئے اس کی مذہبی توثیق کی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پیر کے روز ایران بھر میں عوامی اجتماعات کا انعقاد کیا جا رہا ہے جہاں عوام نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سامنے بیعت (حلفِ وفاداری) کریں گے۔

دارالحکومت تہران میں مرکزی اجتماع انقلاب اسکوائر میں مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے منعقد ہوگا جب کہ دیگر بڑے شہروں میں بھی اسی نوعیت کی تقریبات جاری ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی بطور سپریم لیڈر تقرری کے بعد عبوری کونسل کے تمام اختیارات انہیں منتقل ہو گئے ہیں اور وہ تاحیات اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اب وہ ’بیتِ رہبری‘ یعنی سپریم لیڈر کے دفتر کا کنٹرول سنبھالیں گے، جہاں سے مشیروں، مختلف صوبوں اور ریاستی اداروں کے نمائندوں سمیت اہم عہدیداروں کی تقرری یا توثیق کی جائے گی۔

ایران کے آئینی ڈھانچے کے مطابق سپریم لیڈر مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف بھی ہوتے ہیں۔ ان کی تقرری کے بعد تمام عسکری ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں براہِ راست انہیں رپورٹ کریں گی اور انہی سے نئی ہدایات اور احکامات حاصل کریں گی۔

واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے ممکنہ جانشینوں کے طور پر تین سینئر علما کے نام تجویز کیے تھے، جن میں ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا نام شامل نہیں تھا۔

مجتبیٰ خامنہ ای جلد ہی قوم سے اپنا پہلا خطاب بھی کریں گے، جسے موجودہ علاقائی اور جنگی حالات کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس خطاب میں وہ ممکنہ طور پر مستقبل کی پالیسیوں، داخلی امور اور موجودہ جنگ کے حوالے سے خارجہ حکمت عملی پر روشنی ڈالیں گے۔