اقوام متحدہ کی اسرائیل اور حزب اللہ سے فوری جنگ بندی کرنے کی اپیل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل اور حزب اللہ سے فوری طور پر جنگ بندی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان میں مسلح گروہوں کا دور ختم ہونا چاہیے اور ریاستی اداروں کو طاقت کے استعمال پر مکمل اختیار حاصل ہونا چاہیے۔
انتونیو گوتریس نے بیروت کے صدارتی محل میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اسرائیل اور حزب اللہ دونوں سے مضبوط اپیل ہے کہ وہ جنگ بند کریں اور لبنان کو ایک ایسا خودمختار ملک بننے کا موقع دیں جہاں صرف ریاستی اداروں کے پاس طاقت کے استعمال کا اختیار ہو۔
انہوں نے کہا کہ اب مسلح گروہوں کا وقت نہیں رہا بلکہ مضبوط ریاستوں کا دور ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا جب لبنان میں جاری جنگ کو 11 دن ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ لبنان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری فنڈ ریزنگ مہم شروع کی جائے گی۔ اس مہم کا مقصد ان 8 لاکھ سے زائد افراد کی مدد کرنا ہے جو جنگ کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں۔
انتونیو گوتریس جمعہ کے روز بیروت پہنچے جہاں انہوں نے لبنانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے جاری جنگ میں اب تک 687 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ یہ جنگ ایسے وقت میں شروع ہوئی جب مسلمان رمضان المبارک اور عیسائی برادری لینٹ کے مذہبی ایام منا رہی ہے، جو دراصل امن اور عبادت کا وقت ہونا چاہیے تھا۔
گوتریس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ لبنانی عوام نے اس جنگ کا انتخاب نہیں کیا بلکہ انہیں اس میں دھکیلا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ لبنان اور پورے خطے کے لیے ایک پرامن مستقبل کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
دوسری جانب اسرائیل اور لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ کے درمیان حالیہ دنوں میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اسرائیل نے 2 مارچ سے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں میں اضافہ کیا جس کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر مشترکہ حملے کیے جن میں تقریباً 1300 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔
اس کے جواب میں ایران نے ڈرون اور میزائل حملے کیے جو اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔














