امریکا کا مشرق وسطیٰ میں پانچ ہزار فوجی اور بحری جہاز تعینات کرنے کا فیصلہ

یہ اقدام امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی درخواست پر کیا جا رہا ہے
شائع 14 مارچ 2026 09:08am

امریکا نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے اور اس مقصد کے لیے ہزاروں میرینز اور جنگی بحری جہاز تعینات کیے جا رہے ہیں۔

امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے جنگی صورتحال کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کے لیے تقریباً 5 ہزار میرینز اور دیگر فوجی اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن کے ساتھ کئی جنگی بحری جہاز بھی خطے میں بھیجے جائیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے ہزاروں امریکی میرینز کو مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ اقدام امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی درخواست پر کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ درخواست ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ایران پر آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں اور بارودی سرنگیں بچھانے جیسے اقدامات کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے حملوں کے لیے اپنے مشن کا آغاز کر دیا ہے اور ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی مستقبل میں دوبارہ طاقت حاصل کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔