امریکا نے جسے بھی کپڑے پہنچائے وہ برہنہ ہوگیا، ایرانی اسپیکر

امریکا آبنائے ہرمز محفوظ بنانے کے لیے دوسروں سے مدد مانگ رہا ہے، عباس عراقچی
اپ ڈیٹ 14 مارچ 2026 11:32pm

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اس جنگ نے ایک بات ثابت کردی ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے کسی کو تحفظ نہیں دیتے، امریکا نے جسے بھی کپڑے پہنائے وہ برہنہ ہوگیا۔

محمد باقر قالیباف نے سماجی ویب سائٹ ایکس پراپنے بیان میں امریکی اڈے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو سیکیورٹی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی خودمختاری اور علاقائی تعاون پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے امریکا پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ اپنے اتحادیوں کے مفادات کے مقابلے میں اسرائیل کو ترجیح دیتا ہے۔ قالیباف کے بقول امریکا سب کو اسرائیل کے لیے قربان کرتا ہے، اسے اسرائیل کے سوا کسی کی بھی پروا نہیں۔۔

اسی تناظر میں انہوں نے ایک سخت تمثیل استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’جو بھی امریکہ کی سیکیورٹی کے سہارے کھڑا ہے، وہ دراصل غیر محفوظ ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے امریکی فوجی موجودگی کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز محفوظ بنانے کیلئے دوسروں سے مدد مانگ رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے کئی ممالک یہاں تک کہ چین سے بھی بحری جہاز بھیجنے کی اپیل کی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کی سکیورٹی چھتری اب بہت کمزور ہو چکی ہے، امریکا کی سکیورٹی چھتری میں کئی سوراخ ہو چکے ہیں۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران پڑوسی ممالک سے غیر ملکی فوجی موجودگی ختم کرنے کے اپیل کر رہا ہے، خطے میں کشیدگی کی اصل وجہ اسرائیل ہے۔