آن لائن شاپنگ کے دوران خاتون 98 ہزار روپے کے فراڈ کا شکار
بھارتی خاتون آن لائن خریداری کے دوران سائبر فراڈ کا شکار ہو گئیں اور صرف چار کُرتیاں خریدنے کے پروسس میں 98 ہزار روپے کھو بیٹھیں۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے مطلوبہ ویب سائٹ سے چار کرتیاں خریدیں اور خریداری کے وقت مکمل رقم آن لائن ادا کردی، لیکن چند دن بعد خاتون کے موبائل پر کالز آئیں جن میں کہا گیا کہ اس کی پچھلی ادائیگی مکمل نہیں ہوئی یا کوئی تکنیکی مسئلہ ہے، لہٰذا رقم دوبارہ جمع کروائیں اور اضافی ادائیگی ریفنڈ کے ذریعے واپس کر دی جائے گی۔
خاتون نے ان کی بات پر بھروسہ کرتے ہوئے ریفنڈ کا عمل شروع کرنے کے لیے تقریباً ڈھائی ہزار روپے مزید ادا کردیے۔
فون کال پرجو ہدایات دی گئی تھیں اس پر عمل کرنے کے بعد خاتون کے بینک اکاؤنٹ سے متعدد ٹرانزیکشنز ہونا شروع ہوگئیں اور کل 98 ہزار روپے کٹ گئے۔ رقم کے متعلق پیغامات موصول ہونے پر خاتون نے فوری طور پر پولیس سے رابطہ کیا۔ پولیس نے نامعلوم سائبر کرمنلز کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
آن لائن شاپنگ کے بڑھتے ہوئے رحجان کے ساتھ ہی سائبر فراڈ کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ فراڈ کرنے والے عموماً صارفین کو جعلی کالز یا ای میلز کے ذریعے گمراہ کرتے ہیں اور رقم واپس کرنے کے بہانے اضافی پیسے نکال لیتے ہیں۔
یہ دھوکہ دہی اکثر اس وقت ہوتی ہے جب صارف اصلی ویب سائٹ کی بجائے غیر محفوظ لنکس یا مشتبہ فون نمبرز پر بھروسہ کر لیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقی آن لائن شاپنگ پورٹلز کبھی بھی صارف سے ریفنڈ کے لیے دوبارہ ادائیگی یا غیر معروف لنک پر کلک کرنے کو نہیں کہتے۔
صارفین کو ہمیشہ سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے کسٹمر کیئر نمبر حاصل کرنے اور مشکوک کالز یا پیغامات سے محتاط رہنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی بینک اکاؤنٹس اور کارڈ کی تفصیلات کو محفوظ رکھنا، ٹرانزیکشنز کا باقاعدگی سے جائزہ لینا، اور کسی بھی غیر معمولی پیغام پر فوری تحقیقات کرانا ضروری ہے تاکہ آن لائن فراڈ سے بچا جا سکے۔
















