ایران کے یورینیم پر قبضے کا منصوبہ؛ نطنز جوہری مرکز پر امریکا اور اسرائیل کا دوبارہ حملہ
ایران کے اہم جوہری مرکز ’نطنز‘ پر ایک بار پھر حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق صبح کے وقت امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فضائی حملہ کیا گیا جس میں اس جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملے کے باوجود اس مقام پر کسی قسم کے تابکار مواد کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی قریبی آبادی کو فوری طور پر کسی خطرے کا سامنا ہے۔ حکام کے مطابق صورتحال کو قابو میں رکھا گیا ہے اور نگرانی جاری ہے۔
ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے بھی اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نطنز میں قائم شہید احمدی روشن افزودگی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔
ادارے نے ان حملوں کو ”مجرمانہ کارروائی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، جن میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) اور دیگر حفاظتی اصول شامل ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب نطنز نیوکلئیر فیسیلیٹی کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی جنگ کے ابتدائی دنوں میں یہاں حملہ کیا گیا تھا جس میں سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔
یہ مرکز تہران سے تقریباً 220 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور ایران کے اہم ترین جوہری پروگرام کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکی پالیسی ساز حلقوں میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور جاری ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ کے مطابق امریکا اس بات پر بھی غور کر رہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنایا جائے یا انہیں کسی طرح اپنے کنٹرول میں لیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے حساس نوعیت کے مشنز کے لیے ’جوائنٹ اسپیشل آپریشن کمانڈ‘ جیسے خصوصی یونٹ کے استعمال پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا اپنے فوجی اہداف کے قریب پہنچ چکا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی کارروائیوں کو کم کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ایک بنیادی ہدف ہے۔
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے ’انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی‘ کے مطابق ایران کے پاس بڑی مقدار میں 60 فیصد تک افزودہ یورینیم موجود ہے، جو ہتھیار بنانے لائق سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ادھر ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ہفتے کے روز بھی میزائل حملے جاری رہے، جبکہ سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے مشرقی علاقے میں چند گھنٹوں کے دوران تقریباً 20 ڈرونز کو مار گرایا۔
یہ علاقہ تیل کی بڑی تنصیبات کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔












