ایران جنگ کے باعث عالمی منڈیاں متاثر، ایشیائی مارکیٹس اور فضائی صنعت دباؤ کا شکار

خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات فضائی صنعت پر بھی نمایاں ہوئے ہیں۔
شائع 23 مارچ 2026 11:37am

ایران جنگ کے اثرات کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار ہیں، جہاں ٹوکیو اور سیول میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات فضائی صنعت پر بھی نمایاں ہوئے ہیں۔ دنیا کی 20 بڑی ایئرلائنز کو مجموعی طور پر 53 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ پروازوں میں رکاوٹوں کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔

قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران اور خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جس کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹس ہفتے کے آغاز پر مندی کا شکار رہیں۔

ہانگ کانگ سے موصول رپورٹ کے مطابق ٹوکیو اور سیول کی مارکیٹس میں نمایاں کمی دیکھی گئی جب کہ جنوبی کوریا کا کے او ایس پی آئی انڈیکس ابتدائی ٹریڈنگ میں 5 فیصد تک گر گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اب طویل المدتی کشیدگی اور توانائی کی بلند قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے مورگن اسٹینلے نے پیش گوئی کی ہے کہ ایشیائی ایکویٹی مارکیٹس میں مزید کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے اور ممکنہ طور پر یہ کمی 20 فیصد تک جا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایشیا توانائی کی درآمد کے حوالے سے مشرقِ وسطیٰ پر زیادہ انحصار کرتا ہے، اسی لیے خطے میں کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ یہاں کی معیشتوں کو براہِ راست متاثر کر رہا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران نے جاپانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کا عندیہ دیا ہے، جسے وہ اپنی جزوی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دے رہا ہے۔ تاہم توانائی مارکیٹس میں عدم استحکام برقرار ہے اور تیل کی قیمتیں بلند سطح پر موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بدترین صورتحال میں خام تیل کی قیمت 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ ایران اور خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات فضائی صنعت پر بھی نمایاں ہوئے ہیں، جس کے باعث دنیا کی 20 بڑی ایئرلائنز کو مجموعی طور پر 53 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جنگ کے باعث خلیجی خطے کے ہوائی اڈے اور فضائی روٹس متاثر ہوئے ہیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق ایئرلائن انڈسٹری کورونا وبا کے بعد ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں ایئرلائنز کو ایندھن کی ممکنہ قلت اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا ہے، جو دوگنا ہو چکی ہے اور اسی وجہ سے ہوائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب انڈونیشیا نے ایران اور خطے میں جاری جنگ کے اثرات سے اپنی معیشت کو محفوظ رکھنے کے لیے 4.7 ارب ڈالر تک بجٹ میں بچت کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکومت 80 کھرب روپیہ کی بچت اور ایندھن کے استعمال میں کمی کے لیے اقدامات پر غور کر رہی ہے، جبکہ بعض سرکاری ملازمین کے لیے ہفتے میں ایک دن ریموٹ ورکنگ کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ماہرین مزید خبردار کر رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے باعث عالمی منڈیوں میں بحالی میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے اور صورت حال معمول پر آنے میں تاخیر کا امکان ہے، جب کہ فضائی صنعت اور تیل کی قیمتوں پر بھی دباؤ برقرار رہنے سے عالمی معیشت مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔