امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہیں: پاکستان

پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر دی۔
اپ ڈیٹ 24 مارچ 2026 07:16pm

پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکراتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے پیشکش کی ہے کہ اگر امریکا اور ایران رضامند ہوں تو وہ ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اہم پیشکش سامنے رکھی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے مذاکراتی عمل کا خیرمقدم کرتا ہے اور اسے مکمل حمایت فراہم کرتا ہے۔

وزیراعظم کے بیان کے مطابق اگر امریکا اور ایران اس پر رضامند ہوں تو پاکستان ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے واضح کیا ہے کہ وہ ایک غیرجانبدار اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے کو تیار ہیں، تاکہ جاری تنازع کا جامع اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔

پیر کو فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے پُرعزم ہیں، ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے اور ایران کے قابل احترام رہنما سے بات چیت ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ مشرقی وسطیٰ میں جنگ کے مکمل اور حتمی حل سے متعلق انتہائی نتیجہ خیز گفتگو ہوئی ہے، تفصیلی اور تعمیری بات چیت پورے ہفتے جاری رہے گی، اُمید ہے ایران کے مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔

یاد رہے کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز اور رائٹرزجیسے معتبر خبر رساں اداروں نے بھی چند مسلم ممالک کی جانب سے جنگ بندی کی کوشش کے لیے عملی کردار ادا کرنے کا دعوٰی کیا تھا جس میں ترکیہ اور مصر شامل ہیں اور اس پورے عمل میں پاکستان نے خود کو مرکزی ثالث کے طور پر پیش کیا۔

فنائنشل ٹائمز کے دعوے کے مطابق پاکستان خود کو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل آرمی چیف عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ٹرمپ سے بات چیت کی ہے۔

برطانوی اخبار نے مشرق وسطی میں جنگ کی آگ ٹھنڈی کرنے کی کاوشوں میں پاکستان کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ طاقتور فوجی قیادت فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے ایران سے اپنے روابط اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنے گہرے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ثالثی کی کاوشیں تیز کیں۔

دوسری جانب رائٹرز کا بھی کہنا تھا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کم کرانے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں سرگرم ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان نے اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر پیش کیا ہے جہاں آئندہ دنوں میں اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔

رائٹرز کے مطابق مذاکرات میں ایران کی نمائندگی ایران کی مجلسِ شوریٰ کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔

یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی سطح پر مختلف ممالک اس کے پرامن حل کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔