ٹرمپ نے ایران پر حملے کا الزام وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر تھوپ دیا

ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے فوجی آپشن تجویز کیا گیا، امریکی صدر
اپ ڈیٹ 25 مارچ 2026 12:09pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے ان کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ کا آپشن اپنانے پر اکسایا۔

یہ بات انہوں نے ریاست ٹینیسی کے شہر ممفیس میں عوامی تحفظ کے حوالے سے منعقدہ ایک گول میز کانفرنس کے دوران کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ پیٹ ہیگسیتھ ان ابتدائی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن اختیار کرنے کی حمایت کی، تاکہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران ایک بڑا مسئلہ ہے، جو ان کے بقول کئی دہائیوں سے دہشت گردی میں ملوث رہا ہے اور اب ایٹمی صلاحیت کے قریب پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر دفاع نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

امریکی حکام کے مطابق 28 فروری 2026 کو امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعداد و شمار کے مطابق اس دوران ایران میں 9 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 140 سے زیادہ بحری جہاز تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق ان کارروائیوں میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

ایک اور پیش رفت میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملوں میں پانچ روزہ وقفے کا اعلان کیا اور کہا کہ تہران کے ساتھ مثبت نوعیت کے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکیہ کے ساتھ رابطوں کا اعتراف کیا، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے براہ راست مذاکرات کی خبروں کو مسترد کیا۔

ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق ممکنہ طور پر بالواسطہ رابطوں کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایران کے اندر غیر تیل اہداف پر حملے جاری ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ ان فوجی کارروائیوں کے بعد دفاعی ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے تقریباً 200 ارب ڈالر مختص کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو حالیہ برسوں میں سب سے بڑی رقم قرار دی جا رہی ہے۔

میدانی صورتحال کے مطابق کشیدگی کا مرکز آبنائے ہرمز بن چکا ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔

اپنے بیان کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے، اور دعویٰ کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری پر آمادہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے باضابطہ معاہدہ ضروری ہوگا۔