خطرے کی گھنٹی: خطرناک ’اسپائی ویئر‘ لیک ہونے سے کروڑوں آئی فون خطرے میں
ٹیکنالوجی کی دنیا سے آئی فون صارفین کے لیے ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ ایک نئی سائبر سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق آئی فون کو ہیک کرنے والا ایک انتہائی خطرناک اور طاقتور سوفٹ ویئر جس کا نام ”ڈارک سورڈ“ ہے، انٹر نیٹ پر لیک ہوگیا ہے جس نے دنیا بھر میں لاکھوں صارفین کے لیے خطرہ پیدا کردیا ہے۔
اس معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رپورٹ کے مطابق اب یہ اسپائی ویئر ”ڈارک سورڈ“ انٹرنیٹ پر عام دستیاب ہے جس کی وجہ سے معمولی مہارت رکھنے والے لوگ بھی اب دوسروں کے فون تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’ٹیک کرنچ‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ ٹول پہلے محدود لوگوں تک تھا لیکن اب یہ ’گِٹ ہب‘ پر پبلش ہو چکا ہے، جس سے اس تک رسائی بہت آسان ہو گئی ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے استعمال کے لیے زیادہ تکنیکی مہارت کی ضرورت نہیں، اس لیے یہ خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے ’آئی ویریفائی‘ کے ماہرین کے مطابق لیک ہونے والی فائلیں اتنی سادہ ہیں کہ انہیں چند منٹوں میں چلایا جا سکتا ہے۔ ایک بار یہ اسپائی ویئر کسی ڈیوائس میں داخل ہو جائے تو یہ صارف کا حساس ڈیٹا حاصل کر سکتا ہے، جیسے کہ رابطے، پیغامات، کال ریکارڈز اور محفوظ پاس ورڈز۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ خطرہ خاص طور پر ان ڈیوائسز کو متاثر کر رہا ہے جو پرانے سافٹ ویئر ورژن پر چل رہے ہیں، جن میں آئی فون اور آئی پیڈز شامل ہیں۔ ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ مسئلہ خاص طور پر پرانے سسٹمز میں زیادہ مؤثر ہے۔
گوگل ماہرین نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ خامی اپڈیٹ نہ ہونے والے ڈیوائسز میں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ایپل نے اس صورتِ حال کا نوٹس لیتے ہوئے صارفین کو فوری طور پر اپنے ڈیوائسز اپڈیٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ جدید سافٹ ویئر ورژنز میں اس مسئلے کا حل موجود ہے اور اضافی حفاظت کے لیے ” لاک ڈاؤن موڈ“ کو فعال کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں 2.5 ارب سے زائد فعال ڈیوائسز موجود ہیں، جن میں سے ایک بڑا حصہ اب بھی پرانے آپریٹنگ سسٹمز پر چل رہا ہے، جس سے ممکنہ طور پر کروڑوں صارفین پر ہیکنگ کا سایہ منڈلا رہا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ”ڈارک سورڈ“ کے عوامی طور پر لیک ہونے کے بعد آئندہ دنوں میں ہیکنگ کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ڈیوائسز کو فوراً اپڈیٹ کریں اور مشکوک لنکس یا ویب سائٹس سے محتاط رہیں۔
















