جنگ بندی کی امریکی تجویز مسترد، ایران نے 5 شرائط رکھ دیں
ایران نے امریکا کی جانب سے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صرف تہران کی شرائط پر ہی ختم ہوگی اور امریکی تجویز اپنی ناکامی کو چھپانے کی ایک چال ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق ایران کے ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران امریکا کی ڈکٹیٹشن قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی شرائط پوری ہونے تک جنگ اور دشمن پر حملے جاری رکھے گا۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکا نے مختلف سفارتی چینلز کے ذریعے مذاکرات کی کوششیں کیں مگر ایران کے نزدیک یہ تجاویز حقیقت سے کوسوں دور تھیں۔
ایران نے امریکی کی حالیہ پیشکش کو چال قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ امریکا نے گزشتہ ادوار میں بھی مذاکراتی عمل کے دوران دھوکہ دیا اور ایران پر حملے کیے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے جنگ بندی پر رضامندی کے لیے پانچ شرائط رکھ دی ہیں۔ جس میں ایران کے خلاف ہر قسم کی جارحیت اور حملوں کا مکمل خاتمہ ہے۔ دوسری شرط جنگ دوبارہ مسلط نہ ہونے کے لیے عملی اقدامات اور ٹھوس یقین دہانی ہے۔
ایران نے اپنی شرائط میں جنگ کے دوران نقصانات کی تلافی کا مطالبہ بھی شامل کیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ایران کے علاوہ خطے میں شامل تمام محاذوں اور مزاحمتی گروپوں کے لیے جنگ کا مکمل اختتام کیا جائے گا۔
ایران نے جنگ بندی کے لیے آخری شرط یہ رکھی ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کے حقِ حکمرانی اور مکمل خودمختاری کی بین الاقوامی سطح پر ضمانت دی جائے گی۔
اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تجویز ایران تک پہنچا دی ہے۔
ایرانی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی تاہم امریکی تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ آیا یہ وہی 15 نکاتی امریکی منصوبہ ہے جس کی خبریں عالمی میڈیا میں سامنے آ چکی ہیں۔
ایرانی ذریعے کے مطابق مذاکرات کی کوششوں میں ترکیہ بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ممکنہ مذاکرات کے لیے پاکستان اور ترکیہ کی میزبانی پر غور کیا جارہا ہے۔
ترکیہ کی حکمران جماعت کے سینئر رہنما ہارون ارمغان نے تصدیق کی ہے کہ ترکیہ ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کر رہا ہے جبکہ پاکستان پہلے ہی اس ہفتے ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر چکا ہے۔
تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اب تک باضابطہ مذاکرات کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ایران کی مسلح افواج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی صدر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کسی صورت امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کرے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی توجہ اس وقت اپنی خودمختاری کے دفاع پر مرکوز ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم حالیہ دنوں میں ان کے مؤقف میں نرمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی کچھ استحکام آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر اسرائیل کو شدید خدشات لاحق ہیں۔ اسرائیلی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران امریکی شرائط کو قبول نہیں کرے گا جبکہ امریکا مذاکرات کے دوران نرمی دکھا سکتا ہے، جس پر اسرائیل کو تحفظات ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مبینہ امریکی تجاویز میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سخت شرائط شامل ہیں۔ جس کے تحت ایران کو اپنی تمام موجودہ جوہری صلاحیت ختم کرنا ہوگی اور یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ وہ مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
اس منصوبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اپنے علاقائی اتحادی گروہوں کی مالی اور عسکری امددد بند کرنا ہوگی اور آبنائے ہرمز میں بھی کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی جائے گی۔











