جارحیت نہ روکی گئی تو ’باب المندب‘ کو بھی بند کر دیں گے: ایران کی وارننگ

آبنائے باب المندب عالمی تجارت خصوصاً یورپ اور امریکا کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
شائع 26 مارچ 2026 12:01am

ایران نے مذاکرات کی خبروں کے درمیان امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی سرزمین یا جزائر پر حملے نہ روکے گئے یا کسی نئی جارحیت کی کوشش ہوئی تو وہ آبنائے باب المندب کو بند کرنے جیسے اقدامات سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ دشمن ایران کے ایک جزیرے پر قبضے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک فوجی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کی صورت میں دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے نیا محاذ کھولا جاسکتا ہے۔

تسنیم نیوز کے مطابق فوجی ذریعے نے کہا ہے کہ ایران مسلسل دشمن کی تیاریوں اور پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ کارروائی کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے ایران کی توانائی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران ماضی میں بھی اسرائیلی جارحیت کا سخت جواب دے چکا ہے اور اگر دشمن نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو اسے ایک نئی آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ دشمن ایک علاقائی ملک کی مدد سے ایرانی جزیرے پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔

آبنائے باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملاتی ہے، اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔

حالیہ برسوں میں یمن کی خانہ جنگی اور بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملوں کے باعث اس گزرگاہ کی سیکیورٹی عالمی توجہ کا مرکز بنی رہی ہے۔ یمن میں موجود ایران نواز حوثی گروپ ماضی میں اس علاقے میں جہازوں کو نشانہ بناتا رہا ہے اور عندیہ دے چکا ہے کہ ایران کے اشارے پر وہ اس راستے کو بند بھی کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ایران نے صوبہ بوشہر میں واقع ساؤتھ پارس گیس فیلڈ سے منسلک تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک اور اسرائیل کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

اس صورت حال کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ان حملوں سے الگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کا اس کارروائی سے کوئی تعلق نہیں، اور توانائی تنصیبات پر حملوں سے گریز کی ہدایت بھی کی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ جاری رہنے کی صورت میں خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھے گی، جبکہ باب المندب کی بندش سے عالمی سطح پر جاری معاشی بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جنگ صرف ایران کی طے کردہ شرائط پر ختم ہوگی۔ ایرانی حکام نے اپنی پانچ اہم شرائط بھی سامنے رکھ دی ہیں، جس میں جنگ کے دوران ہوئے نقصانات کی تلافی بھی شامل ہے۔