امریکا-ایران جنگ: برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل ہو گئی

اگر امریکا ایران جنگ جون کے اختتام تک جاری رہی تو تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہیں، ماہرین
شائع 27 مارچ 2026 10:11am

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعے کو بھی رد و بدل کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ انہوں نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے 10 دن کے لیے مؤخر کرنے کا بھی اعلان کیا۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اس بیان کے بعد خامل تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی آئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ برطانوی برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 84 سینٹ یعنی 0.8 فیصد کمی کے بعد 107.17 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1.02 ڈالر یعنی 1.1 فیصد کمی کے ساتھ 93.46 ڈالر فی بیرل تک گر گئی ہے۔

ہفتہ وار بنیاد پر دونوں بینچ مارکس تقریباً 4.6 فیصد نیچے ٹریڈ کر رہے ہیں، حالانکہ جمعرات کے روز جنگ میں مزید شدت کے خدشات کے باعث برینٹ میں 5.7 فیصد اور امریکی خام تیل میں 4.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

فلپ نووا کی تجزیہ کار پریانکا سچدیوا کے مطابق کشیدگی میں کمی کی باتوں کے باوجود تیل کی قیمتیں صرف خبروں پر نہیں بلکہ جنگ کے دورانیے پر منحصر ہیں۔ اگر تیل کے انفراسٹرکچر کو براہ راست نقصان پہنچا یا تنازع طویل ہوا تو منڈیوں میں قیمتیں تیزی سے اوپر جا سکتی ہیں۔

ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کا اعلان کیا ہے، تاہم امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں اضافی فوجی بھی تعینات کیے ہیں اور یہ غور کیا جا رہا ہے کہ آیا ایران کے اسٹریٹجک آئل حب خارگ جزیرے پر زمینی کارروائی کی جائے۔

اس جنگ کے باعث عالمی سطح پر یومیہ 11 ملین بیرل تیل کی فراہمی متاثر ہو چکی ہے۔ عالمی انرجی ایجسنی نے اس بحران کو سنہ 1970 کی دہائی کے روس-یوکرین گیس بحران سے بھی زیادہ سنگین قرار دیا ہے۔

میکواری گروپ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ جلد ختم ہو جاتی ہے تو آنے والے مہینوں میں تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ سکتی ہیں، تاہم وہ تنازع سے قبل کی سطح کے قریب رہیں گی۔

ماہرین کے مطابق اگر جنگ جون کے اختتام تک جاری رہی تو قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔