مارچ اور اپریل میں تربوز کا استعمال کتنا نقصان دہ؟ ماہرین کی وارننگ
مارچ اور اپریل کے مہینوں میں جہاں موسم انگڑائی لے رہا ہے، وہیں بازاروں میں وقت سے پہلے نظر آنے والے تربوز صحت کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی بازاروں میں تربوزوں کی بھرمار ہو جاتی ہے اور لوگ صحت بخش سمجھ کراسے خریدنے کے لیے فورا لپکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مارچ اور اپریل میں تربوز کھانے سے پہلے احتیاط ضروری ہے۔
تربوز کو ”ٹھنڈی تاثیر“ اور ”بھاری غذا“ سمجھا جاتا ہے، جسے ہضم کرنے کے لیے جسم کا تیار ہونا ضروری ہوتا ہے۔
ماہرین غذائیت کے مطابق موسم کے آغاز میں، خاص طور پر مارچ اور اپریل میں، جسم ابھی گرمیوں کے پھلوں کو مکمل طور پر ہضم کرنے کے قابل نہیں ہوتا، جس کے باعث سوجن، تھکن اور بدہضمی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
تربوز دراصل مکمل گرمیوں کا پھل ہے اور اسے اس وقت کھانا زیادہ مفید ہوتا ہے جب گرمی کا موسم اچھی طرح شروع ہو جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ تربوز کھانے کا اصل اور بہترین وقت مئی کے وسط سے شروع ہوتا ہے، جب گرمی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کو بھی اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ تربوز کا ’گلیسیمک انڈیکس‘ 72 سے 80 کے درمیان ہوتا ہے، جو خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے بڑھا سکتا ہے۔
تربوز سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے تین سنہری اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔
تربوزہمیشہ صبح 11 بجے سے شام 5 بجے کے درمیان کھائیں، جب نظامِ ہاضمہ سب سے زیادہ فعال ہوتا ہے۔
تربوز کو ہمیشہ اکیلا کھائیں؛ اسے دودھ، دہی یا کسی دوسرے پھل کے ساتھ ملا کر کھانا ہاضمے کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
اسے صرف شدید گرمی کے موسم میں ہی اپنی غذا کا حصہ بنائیں۔
ان اصولوں پرعمل کرنے سے نہ صرف معدہ پرسکون رہتا ہے بلکہ جسم میں ہلکا پن اور تازگی بھی برقرار رہتی ہے۔
















