ختم کرنے کی کوشش کے باوجود کبھی نہ مرنے والے روبوٹس تیار

ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے باوجود دوڑتے روبوٹس: اے آئی کی تخلیق کردہ "ناقابلِ شکست" مشینیں۔
اپ ڈیٹ 28 مارچ 2026 11:18am

سائنسدانوں نے اے آئی کی مدد سے ایسے انقلابی روبوٹس تیار کیے ہیں جو شدید جسمانی نقصان کے باوجود اپنا کام جاری رکھنے اور خود کو دوبارہ فعال کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان روبوٹس کی سب سے بڑی خاصیت ان کا ’مرنے سے انکار‘ ہے۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق کے مطابق، سائنسدانوں نے اے آئی کی مدد سے ایسے جدید روبوٹس تیار کیے ہیں جو نہ صرف تیزی سے دوڑ سکتے ہیں بلکہ جسمانی توڑ پھوڑ اور نقصان پہنچنے کے باوجود اپنا کام جاری رکھنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں۔

تجربات کے دوران دیکھا گیا کہ اگر ان روبوٹس کا کوئی حصہ کاٹ دیا جائے یا انہیں شدید نقصان پہنچے، تب بھی یہ اپنی بناوٹ کو نئے حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ ان کا بقا کا تناسب (Survival Rate) 90 فیصد سے بھی زیادہ ہے، یعنی جسمانی ٹوٹ پھوٹ کے باوجود یہ رکتے نہیں بلکہ رینگ کر یا لڑکھڑا کر اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہتے ہیں۔

اس انقلابی پیش رفت کے پیچھے خودکار ارتقاء اور ڈیزائن کا عمل کارفرما ہے۔ ان روبوٹس کو ”میٹا مشینز“ کا نام دیا گیا ہے، جنہیں محقق سیم کریگ مین کی سربراہی میں تیار کیا گیا۔

اے آئی نے ہزاروں مختلف ڈیزائنوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایک ایسا ڈھانچہ تیار کیا جو حرکت کے لیے بہترین ہے۔ یہ روبوٹس چھوٹے چھوٹے بلاکس یا یونٹس پر مشتمل ہیں جنہیں تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے حقیقت کا روپ دیا گیا ہے۔

یہ لچکدار مشینیں صرف ہموار فرش تک محدود نہیں بلکہ مشکل راستوں پر گرفت کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ ریت، مٹی اور گھاس جیسے دشوار گزار راستوں پر بھی اپنی جسامت کے آدھے حصے کے برابر فی سیکنڈ کی رفتار سے دوڑ سکتے ہیں۔ ان کی یہ صلاحیت حیاتیاتی نظام، جیسے کہ اسٹار فش کے جسم کے کسی حصے یا بازو کے کٹ کر دوبارہ زندہ ہونے کے عمل سے مشابہت رکھتی ہے، جو انہیں روایتی مشینوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت جان بناتی ہے۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی تلاش اور بچاؤ (ریسکیو) کے مشنز میں انقلابی ثابت ہوگی۔ مثال کے طور پر، زلزلے یا کسی حادثے کی صورت میں جہاں ملبے کے نیچے روایتی مشینیں ناکام ہو جاتی ہیں، یہ لچکدار روبوٹس نقصان کے باوجود زندہ بچ جانے والے افراد تک پہنچنے کی صلاحیت رکھیں گے۔

اگرچہ ان کی حشرات جیسی حرکت بعض افراد کے لیے خوفناک یا عجیب ہو سکتی ہے، لیکن سائنسی لحاظ سے یہ خودکار مشینوں کی دنیا میں ایک بہت بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔