ایران جنگ: اسرائیل کا 261 فوجی اور 6000 شہریوں کے زخمی ہونے کا اعتراف

اسرائیل نے اپنے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ منظور کیا ہے جو 271 ارب ڈالر پر مشتمل ہے۔
اپ ڈیٹ 30 مارچ 2026 01:45pm

اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے پہلی بار اپنے جانی نقصان کے کچھ اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے جاری سرکاری بیان کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 261 اسرائیلی فوجی اور چھ ہزار سے زائد سویلین زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 121 افراد اب بھی زیر علاج ہیں۔

اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 232 افراد زخمی ہونے کے باعث اسپتال منتقل کیے گئے، جس کے بعد جنگ کے دوران ہسپتالوں میں داخل شدگان کی تعداد چھ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

ان زخمیوں میں سے دو افراد کی حالت تشویشناک، آٹھ افراد کی حالت تسلی بخش اور 215 افراد کی حالت بہتر بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سات افراد کو گھبراہٹ کے علاج کے لیے اسپتال لایا گیا۔

وزارت صحت نے زخمی ہونے کی وجوہات کی تفصیل نہیں بتائی، تاہم کہا گیا ہے کہ بعض افراد کو پناہ گاہ تک پہنچنے کی کوشش کے دوران بھی چوٹیں لگی ہیں۔

علاوہ ازیں، اسرائیل نے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں اس کے 261 اسرائیلی فوجی زخمی ہو چکے ہیں، تاہم فوج نے اب تک ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد ظاہر نہیں کی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے اپنے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ منظور کیا ہے جو 271 ارب ڈالر پر مشتمل ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اتنا بڑا بجٹ اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل خود کو کسی ایک مختصر کارروائی کے بجائے ایک طویل اور کثیر الجہتی جنگ کے لیے تیار کر رہا ہے۔

دوحہ انسٹی ٹیوٹ فار گریجویٹ اسٹڈیز کے ماہر محمد المصری نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس صورتحال کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ تاریخی بجٹ اُس کی اِس نیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مختلف محاذوں پر کئی جنگیں لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

محمد المصری کے مطابق تاریخی طور پر امریکا اسرائیل کو ہر سال 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا رہا ہے اور جنگ کے دوران یہ رقم مزید بڑھ جاتی ہے، لیکن اب اسرائیل کے اندر یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ شاید حالات ہمیشہ ایسے نہ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کا سیاسی منظرنامہ بدل رہا ہے اور وہاں کے عوام نہ صرف اسرائیل بلکہ اسے ملنے والی امریکی امداد پر بھی تنقید کر رہے ہیں۔

محمد المصری کا مزید کہنا ہے کہ اس بجٹ سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اسرائیل خود کو جنگ کے خاتمے پر نہیں دیکھ رہا، بلکہ وہ شاید ابھی جنگ کے وسط یا محض آغاز میں ہے۔

ان کے بقول اسرائیلی قیادت یہ سمجھ چکی ہے کہ شام، لبنان، فلسطینی علاقوں اور ایران کے ساتھ ایک طویل المدتی جنگ کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اپنے ’گریٹر اسرائیل‘ کے خواب کو حقیقت بنا سکیں۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اسرائیل کے لیے علاقائی سطح پر مزید تنہائی کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ وہ بیک وقت کئی ممالک کے ساتھ فوجی جارحیت میں مصروف ہے۔