گرمی دانے ایک سے دوسرے کو نہیں لگتے تو پھر اتنے لوگ متاثر کیوں ہوتے ہیں؟

یہ گرمی دانے بڑی تکلیف اورجبھن کا باعث بنتے ہیں۔
شائع 31 مارچ 2026 09:26am

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی جلد کے مسائل میں اضافہ ہونے لگتا ہے، جن میں ’گرمی دانے‘ سب سے عام ہیں۔ بظاہر معمولی نظر آنے والے یہ گرمی دانے حقیقت میں بڑی تکلیف اور پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔

ماہرین واضح کرتے ہیں کہ گرمی دانے متعدی نہیں ہوتے۔ یہ نہ تو ایک شخص سے دوسرے کو لگتے ہیں اور نہ ہی کسی انفیکشن کا نتیجہ ہوتے ہیں، بلکہ یہ صرف جسم کے درجہ حرارت اور پسینے کے نظام سے متعلق ایک مسئلہ ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق شدید تپش اور ہوا میں نمی کا تناسب بڑھنے سے پسینہ زیادہ آنے لگتا ہے اوراگر یہ پسینہ جلدی خشک نہ ہوجائے تو اس کی تیزابیت جلد کو نقصان پہنچاتی ہے۔

ماہرین جلد کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب پسینے کی نالیاں بند ہو جاتی ہیں اور پسینے کے غدود پسینہ خارج نہیں کر پاتے اور وہ جلد کے نیچے ہی رک جاتا ہے، تو گرمی دانوں کی شکایت پیدا ہوتی ہے۔

یہ مسئلہ عام طور پر ان جگہوں پر زیادہ ہوتا ہے جہاں پسینہ زیادہ آتا ہے یا جہاں جلد آپس میں رگڑ کھاتی ہے، جیسے گردن، سینہ، کمر، بغلیں وغیرہ۔ موسم خوشگوار ہو یا بارش ہوجائے تو دانوں میں کمی آجاتی ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق تنگ کپڑے پہننا، زیادہ پسینہ آنا اور جلد کا رگڑ کھانا اس مسئلے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ خاص طور پر بچے، باہر کام کرنے والے افراد اور وہ لوگ جو زیادہ دیر گرمی میں رہتے ہیں، اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

گرمی دانوں اور الرجی میں فرق

گرمی دانے صرف پسینے والی جگہوں پر باریک دانوں کی صورت میں نکلتے ہیں اور اس میں ہلکی جلن یا چبھن محسوس ہوتی ہے۔ جبکہ الرجی میں بڑے، ابھرے ہوئے اور زیادہ خارش والے دانے بنتے ہیں جو جسم کے کسی بھی حصے میں آ سکتے ہیں اور جلدی غائب بھی ہو جاتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر اور بچاؤ

ماہرین نے گرمی دانوں سے محفوظ رہنے کے لیے درج ذیل مشورے دیے ہیں۔

مناسب لباس کا انتخاب: گرمیوں میں نائلون یا پالیسٹر جیسے کپڑوں سے پرہیز کریں کیونکہ یہ پسینہ جذب نہیں کرتے۔ اس کے بجائے ہلکے سوتی اور ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنیں تاکہ ہوا کا گزر ہو سکے۔

جلد کی صفائی: روزانہ ٹھنڈے یا تازہ پانی سے غسل کریں تاکہ جلد صاف اور ٹھنڈی رہے۔ پسینہ آنے کی صورت میں اسے جلد از جلد خشک کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کپڑے پسینے سے بھیگ جائیں تو انہیں فوری تبدیل کر لیں۔

دھوپ سے بچاؤ: دوپہر کے وقت جب سورج کی تپش تیز ہو، باہر نکلنے سے گریز کریں اور کوشش کریں کہ زیادہ وقت ہوادار یا اے سی والے کمروں میں گزاریں۔

خوراک اور گھریلو علاج

گرمی دانوں کی شدت کم کرنے کے لیے غذا اور کچھ سادہ ٹوٹکے بھی کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔

تربوز، خربوزہ، کھیرا، ناریل کا پانی اور لیموں پانی کا استعمال بڑھا دیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو اور اندرونی درجہ حرارت برقرار رہے۔

متاثرہ جلد پر ایلوویرا جیل یا صندل کا پیسٹ لگانے سے جلن اور سرخی میں کمی آتی ہے۔ اس کے علاوہ نہانے کے پانی میں تھوڑا سا میٹھا سوڈا یا جو کا دلیہ شامل کرنا بھی مفید ہے۔

گرمی دانوں کا پاؤڈر لگائیں اس پاؤڈر سے ٹھنڈک کا احساس اور پسینہ جلد خشک ہوجاتا ہے۔

خواتین اپنے ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگائیں اس سے ٹھنڈک کا احساس اور جلن دور ہوگی۔

گرمی دانے ایک عام مگر قابلِ کنٹرول مسئلہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب احتیاط کی جائے تو گرمیوں میں گرمی دانوں سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔