صرف 3 منٹ اور 3 شاہکار غائب: پینٹنگز چوری کی سب سے بڑی اور حیران کن واردات
اٹلی کے شمالی شہر پارما کے قریب واقع میگنانی روکا فاؤنڈیشن کے میوزیم سے تین عالمی شہرت یافتہ مصوروں کے قیمتی فن پارے چوری کر لیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ چوری صرف تین منٹ میں مکمل کی گئی۔
چوری شدہ فن پاروں میں پیئر اگست رینوار کا 1917 کا تیل کا پینٹنگ ”لی پواسن“، پال سیزان کی 1890 کی واٹر کلر پینٹنگ ”تاس ای پلا دے سریز“ اور ہنری ماٹیس کا 1922 کا کام ”اوڈالیسک سور لا ٹیرَس“ شامل ہیں۔
واردات کی تفصیلات کے مطابق اٹلی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ 22 اور 23 مارچ کی درمیانی شب چار نقاب پوش افراد ’ولا آف ماسٹر پیس‘ کی پہلی منزل کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور الارم بجنے کے باوجود چور یہ فن پارے لے کر لوش گارڈنز کے راستے انتہائی تیزی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج بتاتی ہیں کہ الارم بجنے کے باوجود چور انتہائی تیزی سے ولا کے سرسبز باغات کے راستے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
حیرت انگیز طور پر میوزیم انتظامیہ اور پولیس نے اس واقعے کو ابتدائی طور پر خفیہ رکھا تاکہ ملزمان کے دوبارہ وہاں آنے کی صورت میں انہیں پکڑا جا سکے
میوزیم کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی منظم ڈکیتی تھی، جس کا منصوبہ شاید پیرس کے لوور میوزیم میں ہونے والی حالیہ چوری سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا۔

میگنانی روکا فاؤنڈیشن کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ دنیا بھر کے شہرت یافتہ گیلریز اور میوزیمزسے شاہکار فن پارے مستعار لے کر انہیں اپنے ہاں نمائش کے لیے پیش کرتا ہے، جس سے فن کے متوالوں کو ایک ہی چھت تلے عالمی ورثہ دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
اس مقصد کے لیے فاؤنڈیشن نے امریکا میں واقع نیویارک کی ڈیوڈ زوئرنر گیلری اور لاس اینجلس کے مشہورِ زمانہ گیٹی میوزیم جیسے معتبر اداروں کے ساتھ اشتراک کر رکھا ہے، جس سے اٹلی میں عالمی معیار کے فن پاروں کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔
فنون لطیفہ کے شعبے میں اٹلی کے ماہر کارابینیری ہر سال دنیا بھر سے تقریباً ایک لاکھ چوری شدہ فن پاروں کو بازیاب کرتے ہیں، جن کے پاس چوری شدہ آرٹ ٹریک کرنے کا ایک انتہائی جدید نیٹ ورک موجود ہے۔

یہ فاؤنڈیشن 1990 میں عوام کے لیے کھولی گئی تھی، جس میں ٹیسیان، البرٹ ڈورر، روبنز، گویا، کانووا، مونیٹ اور مورانڈی کے شاہکار فن پارے شامل ہیں۔
پارما کے باغات میں نو کلاسیکل اور ایمپائر طرز کے فرنیچر کے ساتھ شاندار درخت اور نایاب پودے ہیں، اور رنگین و سفید مور آزادانہ طور پر باغ میں گھومتے نظر آتے ہیں، جو یہاں کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔
بین الاقوامی اہمیت کے حامل اس میوزیم میں ہونے والی یہ ڈکیتی نہ صرف قیمتی فنون کی چوری ہے بلکہ اٹلی کے آرٹ سیکٹر کی چیلنجز اور عالمی آرٹ مارکیٹ کی حساسیت کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔
اٹلی کا مخصوص آرٹ اسکواڈ اس وقت متحرک ہے، تاہم فی الحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ اس بڑی چوری کے باوجود، میوزیم اپنی معمول کی سرگرمیوں کے ساتھ کھلا ہے۔
















