کپ کا متنازع ڈیزائن: تہران میں کافی شاپ کی پوری چین بند کرا دی گئی
ایران کے دارالحکومت تہران میں حکام نے ایک مشہور کافی شاپ چین ’لامیز‘ کی متعدد شاخوں کو ان کے ڈسپوزایبل کپ پر بنا ڈیزائن مشتبہ قرار دیتے ہوئے بند کردیا ہے۔
ایرانی عدلیہ اور سیکیورٹی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کپوں پر بنی تصویر میں ملک کی اعلیٰ قیادت کے خلاف توہین آمیز اشارے موجود ہیں، جبکہ کمپنی نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے محض ایک اتفاق قرار دیا ہے۔
کافی کے کپ پر ایک ’خالی کرسی‘ کی تصویر بنی ہوئی تھی، جسے سوشل میڈیا صارفین نے حال ہی میں شہید ہونے والے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی خالی نشست سے تشبیہ دی ہے۔ اور اس کرسی پر کچھ برستا ہوا دکھایا گیا ہے۔
انٹرنیٹ صارفین کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ ڈیزائن اسرائیل اور امریکا کے ساتھ حالیہ جنگ کے تناظر میں خامنہ ای کے جانشین اور بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی منظر نامے سے مسلسل غیر حاضری پر طنز کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
صارفین نے اس ڈیزائن کو ’شہید امام‘ کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ’لامیز‘ انتظامیہ نے اپنے سوشل میڈیا بیانات میں وضاحت کی ہے کہ ان کپوں کا حالیہ سیاسی واقعات یا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ڈیزائن ایرانی آرٹسٹ فرشید مثقالی کے 1975 کے ایک مشہور فن پارے سے لیا گیا ہے جس میں رنگین چھینٹوں کے درمیان ایک کرسی دکھائی گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ کپ فارسی نئے سال ’نوروز‘ کی مناسبت سے مہینوں پہلے ڈیزائن اور پرنٹ کیے گئے تھے اور جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی گوداموں میں پہنچا دیے گئے تھے۔
















