ایران کے نئے رہنما نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

امریکا ایران کی درخواست پر آبنائے ہرمز کھلنے کی صورت میں ہی غور کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
اپ ڈیٹ 01 اپريل 2026 07:47pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے تاہم اس درخواست پر آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد ہی اس پر غور کیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر جاری پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے حال ہی میں امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی درخواست پر اس وقت غور کیا جائے گا جب آبنائے ہرمز پر آزادانہ آمد ورفت بحال ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس شرط کے پورا نہ ہونے تک ایران پر امریکی حملے جاری رہیں گے اور انہیں پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے۔

اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران سے جلد نکل جائے گا اور ضرورت پڑنے پر صرف مخصوص اہداف پر حملے کرے گا۔ انہوں نے نیٹو کے بارے میں بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ امریکا کو نیٹو سے نکالنے پر غور کر رہے ہیں۔

رائٹرز کے ساتھ ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے میں دوست ممالک نے امریکا کی حمایت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی ان سے زیادہ کچھ نہیں مانگا، لیکن جب ہمیں ضرورت پڑی تو دوستوں نے ساتھ نہیں دیا۔

ایران جنگ کے اختتام کے حتمی اوقات سے متعلق سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’میں بالکل نہیں بتا سکتا مگر ہم جلد ہی نکل جائیں گے‘۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجے قوم سے خطاب کریں گے، جس میں ایران جنگ کے حوالے سے اہم اعلانات متوقع ہیں۔

ایران جنگ کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔ امریکا کے اہم ترین اتحادی ممالک (نیٹو) نے بھی اس جنگ میں شامل ہونے سے صاف انکار کردیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر کی مسلسل تنقید کے باوجود بدھ کے روز واضح طور پر اعلان کیا کہ برطانیہ ایران سے متعلق جاری تنازع میں ہرگز شامل نہیں ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیئر اسٹارمر کو ایران جنگ میں شامل نہ ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ٹرمپ نے انہیں بزدل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ونسٹن چرچل نہیں ہیں۔ کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ برطانیہ کسی بھی دباؤ میں آ کر خود کو جنگ میں نہیں جھونکے گا۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جنگ بندی کے لیے درخواست کے دعوؤں کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ منگل کے روز الجزیرہ کو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ بندی نہیں بلکہ جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ تہران اور امریکا کے درمیان براہِ راست اور علاقائی ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان رابطوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان باقاعدہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ راستہ ایران اور عمان کی سمندری حدود میں آتا ہے اور اسے تزویراتی طور پر استعمال کرنا ایک عام بات ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ راستہ صرف ان جہازوں کے لیے بند ہے جو ایران کے ساتھ جنگ کا حصہ ہیں، جنگ کے دوران یہ ایک معمول کی بات ہے اور ہم اپنے دشمنوں کو تجارت کے لیے اپنی سمندری حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

عباس عراقچی نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ اس پر دوبارہ حملے نہیں کیے جائیں گے اور گزشتہ حملوں سے ہونے والے نقصان کا ازالہ بھی یقینی بنایا جائے گا۔