ٹرمپ کی ایران کو آخری وارننگ: ڈیل نہ ہونے پر تمام بجلی گھر اڑانے اور پتھر کے دور میں دھکیلنے کی دھمکی

امریکی افواج اگلے دو سے تین ہفتوں کے دوران انتہائی شدید حملے کریں گی:صدر ٹرمپ
شائع 02 اپريل 2026 08:47am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےایران کے خلاف جاری جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج اگلے دو سے تین ہفتوں کے دوران انتہائی شدید حملے کریں گی تاکہ تمام تزویراتی مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔

وائٹ ہاؤس سے نشر ہونے والے 19 منٹ کے خطاب میں صدر ٹرمپ کا لہجہ سخت تھا، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے تصفیے کے لیے ڈیل نہ کی تو امریکا اس کے تمام بجلی گھروں کو بیک وقت نشانہ بنائے گا جس سے ایران دہائیوں پیچھے ’پتھر کے دور‘ میں چلا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 32 دنوں کی فوجی کارروائیوں میں امریکا نے فیصلہ کن فتوحات حاصل کی ہیں اور اب ایران کی وہ حیثیت نہیں رہی کہ وہ امریکا کے لیے خطرہ بن سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) کبھی نہیں تھا اور نہ ہی ہم نے ایسی بات کی ہے، بلکہ ان کے خیال میں ایران کے موجودہ رہنما سابقہ قیادت کے مقابلے میں کم انتہا پسند اور زیادہ معقول ہیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روک دیا ہے اور اب وہ ایٹمی ہتھیاروں کی دہلیز سے بہت دور ہو چکا ہے۔

خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے ماضی کے فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ نہ بنایا جاتا تو آج خطے کی صورتحال بالکل مختلف اور زیادہ خطرناک ہوتی۔

انہوں نے اسرائیل، سعودی عرب اور دیگر اتحادیوں کو یقین دلایا کہ امریکا انہیں اس مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب یہ تنازع ختم ہوگا تو یہ راستہ خود بخود کھل جائے گا، تاہم انہوں نے یورپی اتحادیوں پر زور دیا کہ جو ممالک تیل کے لیے اس راستے پر انحصار کرتے ہیں وہ خود آگے بڑھیں اور اسے کھلوانے کی جرات کریں۔

معاشی محاذ پر صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ جنگ کی وجہ سے امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن انہوں نے اسے عارضی قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار ایرانی حکومت کے ان حملوں کو ٹھہرایا جو وہ پڑوسی ممالک کے تیل بردار جہازوں پر کر رہا ہے۔

انہوں نے ایرانی حکومت پر 45 ہزار افراد کے قتل کا سنگین الزام بھی عائد کیا۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس جنگ کے عالمی معیشت پر گہرے اور منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے خطاب کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کار جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کسی واضح ٹائم لائن کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔