امریکا اور ایران کے درمیان پھنسا عراق: کیا بغداد خود کو نئی جنگ سے بچا پائے گا؟

عراق کی مشکل یہ ہے کہ اس نے طویل عرصے سے ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہوئی تھی۔
شائع 02 اپريل 2026 01:32pm

ایران امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کو اس دہانے پر لا کھڑا کیا ہے کہ اب دیگر ممالک اس میں گھسیٹے جا رہے ہیں۔ قطر، بحرین، کویت، عمان، سعودی عرب، لبنان اور یمن کے بعد اس علاقائی جنگ میں شامل ہونے والا نیا ملک عراق ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں عراق نے خود کو علاقائی جھگڑوں سے دور رکھنے کی بھرپور کوشش کی تھی، لیکن اب بدلتی ہوئی صورتِحال نے اسے ایک ایسی آگ کے قریب کر دیا ہے جس سے بچنا مشکل نظر آ رہا ہے۔

سن 2003 میں صدام حسین کے خاتمے اور پھر داعش کے خلاف جنگ کے بعد سے عراق میں مختلف مسلح گروہ ایک بڑی طاقت بن کر ابھرے تھے، جن میں سے کئی ایران کے ہم خیال ہیں۔ اب یہی گروہ اور عراق کی جغرافیائی حیثیت اسے دوبارہ میدانِ جنگ بنانے کا سبب بن رہے ہیں۔

عراق کی مشکل یہ ہے کہ اس نے طویل عرصے سے ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہوئی تھی۔

بغداد اور تہران دونوں ہی نہیں چاہتے تھے کہ عراق کی نسبتاً بہتری اور معاشی استحکام داؤ پر لگے، اسی لیے عراقی مسلح گروہوں کو قابو میں رکھا جاتا تھا۔

لیکن اب ایران کی حکمت عملی بدل چکی ہے۔ تہران اب خطے میں امن و امان برقرار رکھنے کے بجائے مداخلت اور مزاحمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کی وجہ سے وہ عراق کے استحکام کو بھی خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار نظر آتا ہے۔

جنگ کے آغاز سے اب تک عراقی گروہوں نے امریکی اڈوں پر سیکڑوں حملے کیے ہیں۔ ان مسلح گروہوں کی ایک مشترکہ تنظیم ’پاپولر موبلائزیشن فورسز‘ (پی ایم ایف) جو اب باقاعدہ عراقی فوج کا حصہ ہے، اس نے عراق اور اس سے باہر امریکی مفادات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

جس کے جواب میں امریکا نے بھی جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ اب امریکا کو خدشہ ہے عراق میں موجود ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا بغداد میں امریکی شہریوں اور دیگر مفادات پر مسلح حملے کریں گے۔

یوں وہ محاذ جو برسوں سے بند تھا، اب دوبارہ کھل چکا ہے۔

عراق کی معیشت کا تمام تر دارومدار تیل کی برآمدات پر ہے، جو حکومتی آمدنی کا 90 فیصد سے زائد حصہ بنتی ہیں۔ اسی پیسے سے لاکھوں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں اور عوامی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

مارچ کے آغاز میں آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عراق کی تیل کی پیداوار یومیہ 42 لاکھ بیرل سے کم ہو کر صرف 14 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو کہ ملکی خزانے کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے۔

عراق کے پاس تیل باہر بھیجنے کے لیے آبنائے ہرمز کے علاوہ کوئی بڑا متبادل راستہ موجود نہیں ہے، جبکہ اس کے پڑوسی ممالک کے پاس خشکی کے راستے یا بحیرہ احمر جیسے دیگر آپشنز موجود ہیں۔

اس معاشی بحران کی وجہ سے تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر ہو رہی ہے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں، جس سے عوام میں غم و غصہ پیدا ہو رہا ہے۔

عراق کی سیاسی صورتحال بھی اس وقت انتہائی کمزور ہے کیونکہ نومبر کے انتخابات کے بعد سے نئی پارلیمنٹ اب تک صدر یا وزیراعظم کا انتخاب نہیں کر سکی ہے۔

اس سیاسی خلا کی وجہ سے ملک کا انتظام ایک عارضی حکومت کے ہاتھ میں ہے جس کے پاس بڑے فیصلے کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

دوسری طرف عراقی کردستان کا علاقہ بھی اس جنگ کی زد میں آ رہا ہے، جہاں ایران نے کئی مقامات پر حملے کیے ہیں۔

کرد قیادت پریشان ہے کہ مرکزی حکومت ان مسلح گروہوں کو روکنے میں ناکام کیوں ہے جو ان کے علاقے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ان تمام حالات نے عراق کو ایک ایسے چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے ایک راستہ مزید افراتفری کی طرف جاتا ہے اور دوسرا راستہ مشکل سفارت کاری اور معاشی اصلاحات کا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق کو اس دلدل سے نکالنے کا واحد راستہ جنگ کا خاتمہ ہے، ورنہ یہ ملک برسوں کی محنت سے حاصل کیے گئے امن کو کھو سکتا ہے۔