غزہ میں گڑیا کا جنازہ: جنگ کے اثرات معصوم بچوں تک پہنچ گئے

سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیو عالمی برادری کے لیے خاموش سوالیہ نشان ہے۔
شائع 03 اپريل 2026 10:29am

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں غزہ کی پٹی کے ایک پناہ گزین کیمپ کا ایسا دلخراش منظر سامنے آیا ہے جو دیکھنے والوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔

فلسطین سے سامنے آنے والی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غزہ کے ایک پناہ گزین کیمپ کے پانچ ننھے بچے ایک ’جنازہ‘ اٹھا رہے ہیں۔

اس منظر میں نہ تو کوئی بڑا ان کے ساتھ ہے اور نہ ہی جنازے کی دعائیں، بس چھوٹے چھوٹے ہاتھوں نے ایک کھونا نما اسٹریچر اٹھا رکھا ہے جس پرایک گڑیا پڑی ہے۔

یہ معصوم بچے جس احتیاط سے اس اسٹریچر کو اپنے سروں اور کندھوں پر اٹھائے چل رہے ہیں، وہ کسی خیالی کھیل کا حصہ نہیں بلکہ اس تلخ حقیقت کی عکاسی ہے جو وہ روز اپنے اردگرد دیکھتے ہیں۔

جس عمر میں بچوں کو ہنسنا، کھیلنا اور شرارتیں کرنا چاہیے تھی، وہاں موت، اپنوں کی جدائی اور آخری الوداع کہنا ان کے کھیلوں کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ محض ایک ویڈیو نہیں بلکہ اس سہمے ہوئے بچپن کی داستان ہے جس نے کھلونوں سے پہلے جنازے اٹھانا سیکھ لیا ہے۔

فلسطین کے یہ بچے جو کل کے خواب دیکھنے والے تھے آج جنازے اٹھانے کی نقل کر رہے ہیں۔ یہ گڑیا ان کے لیے محض ایک پلاسٹک کا کھلونا نہیں، بلکہ ان بچھڑ جانے والے پیاروں کی یادگار ہے جنہیں انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے منوں مٹی تلے دبتے دیکھا ہے۔

یہ منظر اس بات کی دردناک یاد دہانی ہے کہ جنگ صرف زمینیں نہیں چھینتی، بلکہ بچوں کا بچپن، ان کے خواب اور ان کی معصومیت بھی نگل لیتی ہے۔

ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ یہ رویہ اس شدید ذہنی صدمے کی علامت ہے جو یہاں کے بچوں کے لاشعور میں گھر کر چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری یہ انسانی بحران صرف موجودہ جانی نقصان تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک پوری نسل کی ذہنی ساخت کو تباہ کر رہا ہے۔

یونیسیف کے مطابق غزہ میں بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جہاں خوراک کی کمی، بنیادی سہولیات کی تباہی اور مسلسل حملوں نے ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

غذائی قلت بچوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے، جبکہ تعلیمی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے کیونکہ کئی اسکول اب پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 5 جنوری 2025 تک تقریباً 42 ہزار 200 خواتین، بچے اور بزرگ ہلاک ہوئے، جو اس عرصے میں ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کا 56 فیصد ہیں۔ مجموعی طور پر اس جنگ میں ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور انسانی بحران بدستور سنگین صورت اختیار کیے ہوئے ہے۔

غزہ کے یہ مناظر عالمی برادری کے لیے ایک خاموش سوالیہ نشان ہیں۔ جہاں خوراک، ادویات اور تحفظ جیسی بنیادی ضرورتیں ناپید ہو چکی ہیں، وہاں بچوں کی ذہنی صحت اور ان کا چھنا ہوا بچپن ایک ایسا ناقابل تلافی نقصان ہے جس کا ازالہ شاید کئی دہائیوں تک نہ ہو سکے۔