’سائلنٹ واک‘، دل کی صحت کے لیے نیا فٹنس رجحان
ماہرین صحت کے مطابق ایک فٹنس رجحان، جسے ’سائلنٹ واکنگ‘ یعنی خاموش چلنا کہا جاتا ہے، دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔ اس طریقے میں لوگ بغیر کسی موسیقی، پوڈکاسٹ یا فون کی خلفشار کے سیر کرتے ہیں اور اپنی توجہ مکمل طور پر جسم اور دماغ پر مرکوز رکھتے ہیں۔
آج کے تیز رفتار اور ڈیجیٹل دور میں انسان شور اور اطلاعات کی بھرمار میں گھرا ہوا ہے، جس کی وجہ سے ذہنی سکون تقریباً مفقود ہوکر رہ گیا ہے، چہل قدمی بھی ہیڈفون کے ساتھ کی جاتی ہے جس کی وجہ سے حقیقی ذہنی سکون نہیں مل پاتا، ”سائلنٹ واکنگ“، انسان کو اپنے اندر جھانکنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے کا ایک آسان اور مؤثر طریقہ فراہم کرتا ہے۔
خاموش چلنے کی مشق کا آغاز بدھ مت کے راہبوں نے صدیوں پہلے کیا تھا، جسے وہ ”حرکتِ مراقبہ“ کہتے ہیں۔ یہ رجحان مڈی مایو نامی کونٹینٹ کریئیٹر اور پوڈکاسٹ کی میزبان نے عام کیا، جب انہوں نے بتایا کہ ان کے غذائی ماہر نے انہیں سخت کارڈیو کی بجائے روزانہ 30 منٹ کی سیر کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کے دوست نے چیلنج دیا کہ وہ یہ سیر بغیر کسی موسیقی یا بات چیت کے کریں۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق مایو نے بتایا کہ ابتدائی لمحوں میں خاموش چلنا ذہنی الجھن پیدا کرتا ہے، لیکن جلد ہی خاموشی کی خوبصورتی اور سکون انہیں اپنے ہیڈ فونز استعمال کرنے سے روکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مشق سے انہیں ذہنی اور تخلیقی توانائی حاصل ہوتی ہے۔
نیچر کے جریدے جرنل آف ایکسپوزر سائنس اینڈ انوائرمنٹل ایپی ڈیمیولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق، شور اور ماحول کا انسانی صحت، خاص طور پر ذہنی اور جسمانی صحت، پر نمایاں اثر ہوتا ہے
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ روزانہ کی یہ سیرجسے آپ مائنڈفل والنگ بھی کہہ سکتے ہیں، جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند ہے، مگر جب یہ سیر خاموشی میں کی جائے تو اس سے ذہن اور جسم دونوں کو اضافی فوائد ملتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس ایریا میں آپ واکنگ کریں وہاں بھی ٹریفک یا مشینوں کا شورشرابا نہ ہو تاکہ آپ کا ذہنی سکون اور اس ورزش یا سیر کے بہترین فوائد حاصل کیے جاسکیں۔
نارتھ ویل اسٹیٹن آئی لینڈ یونیورسٹی اسپتال کے ماہر قلب ڈاکٹر مچل وینبرگ نے بتایا کہ چلنا جسم کے لیے دباؤ کو کم کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ جب ہم ڈیجیٹل ڈسٹرکشن یا شور شرابے کو ختم کر کے خاموش ماحول میں چلتے ہیں، تو اعصابی نظام سکون پاتا ہے اور دل پر اضافی دباؤ ڈالنے والے ہارمونز جیسے کورٹیسول اور ایڈرینالین کم ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیر دل کی گردش کو بہتر بناتی ہے، بلڈ پریشر کم کرتی ہے اور دل کی بیماریوں اور فالج کے خطرے کو کم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سیر دماغ میں اینڈورفنز خارج کرتی ہے جو مزاج بہتر بنانے اور ذہنی سکون میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ باہر چلنے سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے، توجہ بہتر ہوتی ہے اور نیند میں بھی بہتری آتی ہے۔
خاموش سیر نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی فوائد بھی فراہم کرتی ہے، کیونکہ یہ انسان کو اپنے اندرونی خیالات اور جذبات کے ساتھ جڑنے کا موقع دیتی ہے۔

خوبصورتی اور خود شناسی کا کونٹینٹ تیار کرنے والی جولیا سالویا نے بتایا کہ وہ روزانہ 20 سے 30 منٹ کی خاموش سیر کرتی ہیں اور اس دوران اپنے دن اور مقاصد پر غور کرتی ہیں، جس سے انہیں اپنے آپ کی کمپنی کا لطف ملتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، مستقل مزاجی اس مشق میں سب سے اہم ہے، اور خاموش چلنا کچھ لوگوں کے لیے زیادہ قابلِ عمل ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ورزش کو بوجھ کے بجائے آرام دہ اور پرسکون محسوس کراتا ہے۔
سائلنٹ واکنگ اس لیے بھی کامیاب ہے کیونکہ یہ ورزش کو ایک ”مجبوری“ سے بدل کر ”ذہنی سکون“ کا ذریعہ بنا دیتی ہے۔ جب آپ کو کسی کام میں سکون ملتا ہے، تو آپ اسے روزانہ کرتے ہیں، اور یہی روزانہ کی عادت آپ کی جسمانی طاقت اور قوتِ برداشت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
















