دفترِ خارجہ نے یو اے ای کے مالی ذخائر سے متعلق تبصرے مسترد کر دیے

متحدہ عرب امارات کے مالی ذخائر سے متعلق تبصرے بے بنیاد ہیں، ترجمان دفترِ خارجہ
شائع 04 اپريل 2026 10:47pm

دفترِ خارجہ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مالی ذخائر سے متعلق گردش کرنے والے تبصروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اسٹیٹ بینک میں رکھے گئے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ذخائر تجارتی معاہدوں کا حصہ تھے اور ان کی واپسی ایک معمول کی مالیاتی کارروائی ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ یہ ذخائر پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے حمایت کا مظہر رہے ہیں اور حکومت پاکستان طے شدہ مدت پوری ہونے پر انہیں واپس کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معمول کی کارروائی کو غلط رنگ دینا گمراہ کن ہے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں، جب کہ تجارت، سرمایہ کاری اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون جاری ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام پاک-امارات دوستی میں شیخ زاید بن سلطان النہیان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پاکستان یو اے ای کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم پر قائم ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے 2 ارب ڈالر قرض کی فوری واپسی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ رقم رواں ماہ کے اختتام تک یو اے ای کو منتقل کر دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق قرض پہلے پاکستان کے اکاؤنٹ میں سیف ڈپازٹ کی صورت میں موجود تھا اور اس پر 6 فیصد سود ادا ہو رہا تھا۔ یو اے ای نے پہلے اس قرض کی مدت میں توسیع کی تھی، تاہم یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ یو اے ای نے رقم فوری واپسی کا مطالبہ کیا، جس پر دفترِ خارجہ نے تردید کی۔

یاد رہے کہ پاکستان نے دمشق میں موجود متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کے باہر ہنگامہ آرائی کے واقعے کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، دفترِ خارجہ نے کہا کہ یہ واقعہ سفارتی تعلقات کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔

دفترِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات سفارتی مشنوں کی حرمت اور سلامتی کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جو بین الاقوامی قانون، خاص طور پر ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کے تحت محفوظ ہیں۔ ایسے واقعات ریاستوں کے درمیان پرامن سفارتی تعلقات کے اصولوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

پاکستان نے بین الاقوامی قانون اور سفارتی اصولوں کے تحفظ کے لیے اپنی وابستگی کو دہراتے ہوئے امن، استحکام اور اقوام کے مابین باہمی احترام کی اہمیت پر زور دیا ہے۔