ایران نے عراق کو آبنائے ہرمز پر عائد پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا

عراق کے پاس تاریخی موقع ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکی اڈے ختم کرے : ترجمان ایرانی فوج
شائع 04 اپريل 2026 11:57pm

ایران نے عراق کو آبنائے ہرمز پر عائد پابندیوں سے باضابطہ طور پر مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے عراقی عوام سے امریکا کے خلاف کھل کر مؤقف اپنانے اور اپنی سرزمین سے امریکی فوجی موجودگی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے عراقی عوام کے نام پیغام میں کہا ہے کہ اس جنگ میں ایران تنہا نہیں بلکہ عراقی عوام کی حمایت ان کے ساتھ ہے۔

ابراہیم ذوالفقاری نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز پر عائد پابندیاں عراق پر لاگو نہیں ہوں گی اور اس کے بحری جہازوں کو اس اہم سمندری راستے سے گزرنے کی مکمل اجازت ہوگی۔

انہوں نے عراقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکی اڈے ختم کرے اور امریکا کی جانب سے عراقی وسائل کے مبینہ استحصال کو روکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور عراق کے عوام ایک ہی مورچے پر کھڑے ہیں اور امریکا و اس کے اتحادیوں کے خلاف اس تاریخی جنگ میں مل کر شکست دیں گے۔

دوسری جانب عراق کے مختلف شہروں میں ایران کی حمایت میں مظاہرے جاری ہیں۔ ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف بغداد کے تحریر اسکوائر میں جمع ہو کر احتجاج کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فروری 2026 میں عراق کی کُل خام پیداوار تقریباً 4.19 ملین بیرل یومیہ (بی پی ڈی) یعنی کُل عالمی پیداوار کا تقریباً 4 فیصد تھی۔ یہ تقریباً 8 لاکھ بی پی ڈی تک گر چکی ہے، کیوں کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل برآمد نہیں جاسکا تھا جس کے نتیجے میں اسٹوریج ٹینک بھر گئے تھے۔
قطری نشریاتی ادارے [الجزیرہ](https://مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عراق کو تیل کی برآمد میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بغیر اس کے پاس متبادل راستے نہ ہونے کے برابر ہیں۔) کے مطابق عراق کو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث تیل کی برآمد میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر کینتھ کیٹزمین کا کہنا ہے کہ عراق اس جنگ سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور جنوبی علاقوں سے تیل کی ترسیل کے لیے اس کے پاس آبنائے ہرمز کے علاوہ بہت کم متبادل موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے عراق کو آبنائے ہرمز پر عائد پابندیوں سے استثنیٰ دینا امریکا، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے کیوں کہ اس راستے سے جتنا زیادہ تیل برآمد ہوگا، اتنا ہی عالمی منڈی کے لیے بہتر ہوگا۔