خواتین کمیشن کا نورا فتیحی کو آخری نوٹس، سنجے دت بھی طلب

عدم تعمیل کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی, کمیشن کا فیصلہ
شائع 07 اپريل 2026 09:48am

بولی وڈ کے حال ہی میں ریلیز ہونے والے گانے ’سرکے چنر تیری‘ کے گرد تنازعات کا گھیرا مزید تنگ ہو گیا ہے۔ قومی کمیشن برائے خواتین ( این سی ڈبلیو) نے گانے میں مبینہ فحاشی اور نازیبا مواد کا نوٹس لیتے ہوئے اداکارہ نورا فتیحی اور سنجے دت کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا آخری موقع دے دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کمیشن نے اگلی سماعت کی تاریخ 27 اپریل 2026 مقرر کر دی ہے۔ جبکہ معروف اداکار سنجے دت کو 8 اپریل کو پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب نیشنل کمیشن فار ویمن نے گانے کے مواد کو سماجی اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے اسے جنسی طور پر اشتعال انگیز قرار دیا۔

کمیشن نے نورا فتحی اور سنجے دت کے ساتھ ساتھ گانے کے شاعر رقیب عالم، پروڈیوسر وینکٹ کے نارائن اور ہدایت کار کرن کمار کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں۔

ان تمام افراد کو 24 مارچ کو کمیشن کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق حکومتی سطح پر بھی اس گانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ جس کی تصدیق بھارتی وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات، اشونی ویشنو نے لوک سبھا میں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ معاشرتی اور ثقافتی حدود کو پامال کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دستورِ ہند کے تحت دی گئی آزادی کچھ معقول پابندیوں کے ساتھ مشروط ہے جن کا احترام لازمی ہے۔

کمیشن کے مطابق گانے کے بول اور عکس بندی مختلف دفعات کے تحت جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ اس سے قبل قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے بھی گانے میں استعمال ہونے والی ”دوہری معنی“ کی زبان پر اعتراض اٹھایا تھا۔

گانے کے خلاف دہلی پولیس کے سائبر سیل میں بھی شکایات درج کروائی گئی ہیں، جن میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایسا مواد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کھلے عام دستیاب ہونا نوجوان نسل اور عوامی اخلاقیات کے لیے نقصان دہ ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس گانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ اب ایک بڑے قانونی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

یہ گانا آنے والی فلم ’کے ڈی دی ڈیول‘ کا حصہ تھا۔ فلم میں سنجے دت کے علاوہ شلپا شیٹھی، نورا فتیحی، رمیش اروند، وی روی چندرن اور دھرو سرجا نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔ تنازع کے بعد گانے کو یوٹیوب سے ہٹا دیا گیا ہے۔

فلم کی ریلیز 30 اپریل کو متوقع ہے، تاہم اس تنازع نے اس کی تشہیر کو بھی متاثر کیا ہے۔