امریکا کی 20 سب سے بلند عمارتیں

نیویارک اور شکاگو کی برتری قائم۔
اپ ڈیٹ 07 اپريل 2026 02:10pm

امریکہ کی سرزمین پر افق کو چھوتی بلند و بالا عمارتوں کا راج ہمیشہ سے ہی سیاحوں اور ماہرینِ تعمیرات کے لیے کشش کا باعث بنارہا ہے۔

حال ہی میں کونسل آن ورٹیکل اربن ازم (جو پہلے کونسل آن ٹال بلڈنگز اینڈ اربن ہیبیٹٹ کے نام سے جانی جاتی تھی) کے اعداد و شمار کی بنیاد پر امریکہ کی 20 بلند ترین عمارتوں کی فہرست جاری کی گئی ہے، جس میں نیویارک اور شکاگو کی اجارہ داری برقرار ہے، کیونکہ ملک کی 20 بلند ترین عمارتوں میں سے 14 انہی دو شہروں میں واقع ہیں، جو یہاں کی طویل تعمیراتی تاریخ اور جدید انجینئرنگ کی مثالیں ہیں۔

اپریل 2026 تک امریکہ کی 20 سب سے بلند عمارتوں کی درجہ بندی

رینک بلندی (فٹ) شہر عمارت کا نام مکمل ہونے کا سال
1 1,776 نیویارک ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر 2014
2 1,550 نیویارک سینٹرل پارک ٹاور 2020
3 1,451 شکاگو ولس ٹاور 1974
4 1,428 نیویارک 111 ویسٹ 57 اسٹریٹ 2021
5 1,401 نیویارک ون وینڈر بیلٹ ایونیو 2020
6 1,397 نیویارک 432 پارک ایونیو 2015
7 1,389 شکاگو ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل اینڈ ٹاور 2009
8 1,388 نیویارک جے پی مورگن چیس ورلڈ ہیڈکوارٹر 2025
9 1,270 نیویارک 30 ہڈسن یارڈز 2019
10 1,250 نیویارک ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ 1931
11 1,200 نیویارک بینک آف امریکہ ٹاور 2009
12 1,191 شکاگو دی سینٹ ریجس شکاگو 1,191 2020 2020
13 1,136 شکاگو ایون سینٹر 1973
14 1,128 شکاگو 875 نارتھ مشی گن ایونیو 1969
15 1,112 فلاڈیلفیا کامکاسٹ ٹیکنالوجی سینٹر 2018
16 1,100 لاس اینجلس ولشائر گرینڈ سینٹر 2017
17 1,079 نیویارک 3 ورلڈ ٹریڈ سینٹر 2018
18 1,070 سان فرانسسکو سیلز فورس ٹاور 2018
19 1,050 نیویارک 53 ویسٹ 53 2019
20 1,046 نیویارک کرائسلر بلڈنگ 1930

اس حوالے سے تازہ ترین حقائق اور اعداد و شمار درج ذیل ہیں۔

نیویارک میں 2014 میں مکمل ہونے والی ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر (1,776 فٹ) نے امریکی اسکائی لائن پر راج قائم کر رکھا ہے۔
دوسرے نمبر پر نیویارک ہی کی ’سینٹرل پارک ٹاور‘ ہے جس کی بلندی 1,550 فٹ ہے۔ سینٹرل پارک ٹاور (1,550 فٹ) اور دیگر کئی سپر ٹال عمارتیں زیادہ تر مین ہٹن میں واقع ہیں۔

شکاگو نے ابتدائی اسکائی سکریپر کے دور میں نمایاں کردار ادا کیا، اور یہاں اب بھی مشہور عمارتیں جیسے ولس ٹاور (1,451 فٹ) اور ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل اینڈ ٹاور (1,389 فٹ) موجود ہیں، لیکن نیویارک اب بلندی اور کثافت دونوں میں آگے ہے۔

امریکہ کی بلند ترین عمارتوں کا سفر دلچسپ ہے۔ 1930 میں کرائسلر بلڈنگ (1,046 فٹ) دنیا کی سب سے بلند عمارت بنی، لیکن صرف ایک سال بعد ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ (1,250 فٹ) نے بلند عمارت کا اعزاز لے لیا، جو تقریباً 40 سال تک برقرار رہا۔

شکاگو کا سیئرز ٹاور جسے بعد میں ولس ٹاور کا نام دیا گیا 1974 میں سب سے بلند عمارت بن گیا۔ 2014 میں ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر نے یہ اعزاز حاصل کیا۔
صرف نیویارک اور شکاگو ہی نہیں بلکہ چند دیگر شہر بھی ٹاپ 20 میں شامل ہیں، جیسے فلاڈیلفیا کا کامکاسٹ ٹیکنالوجی سینٹر، لاس اینجلس کا ولشائر گرینڈ سینٹر اور سان فرانسسکو کا سیلز فورس ٹاور۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسکائی اسکریپر کی تعمیر دیگر شہروں تک پھیلی ہے، لیکن امریکہ کی سب سے شاندار عمارتیں اب بھی تاریخی شہروں میں مرکوز ہیں۔

2025 میں مکمل ہونے والا 1,388 فٹ بلند جے پی مورگن چیس ورلڈ ہیڈ کوارٹر کی طرح نئی عمارتیں بھی اسکائی لائن کو بدل رہی ہیں، لیکن مغربی ساحل کی نئی بلند عمارتیں اب بھی کچھ پرانی مشرقی اور وسطی شہروں کی عمارتوں سے چھوٹی ہیں، جو امریکہ کے اسکائی اسکریپر شہروں کی دیرپا میراث کو ظاہر کرتی ہیں۔