شمالی کوریا نے دو روز میں دو میزائل داغ دیے

امریکا اور اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے جدید، ناقابلِ سراغ میزائل بنانے کا اعلان
اپ ڈیٹ 08 اپريل 2026 12:24pm

شمالی کوریا نے دو روز کے دوران دوسرا پروجیکٹائل لانچ کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے لگی۔ رہنما کم جونگ اُن نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے جدید اور مشکل سے پکڑے جانے والے میزائل بنانے کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’پولیٹیکو‘ کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے فوری طور پر میزائل کی نوعیت یا فاصلے سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ایک روز قبل بھی شمالی کوریا کے دارالحکومت کے قریب ایک نامعلوم پروجیکٹائل کے تجربے کا سراغ لگایا گیا تھا، جس کا تجزیہ جنوبی کوریا اور امریکا کے انٹیلی جنس ادارے کر رہے ہیں۔

اس سے قبل شمالی کوریا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے رہنما کم جونگ ان نے ایک جدید سالڈ فیول انجن کے کامیاب تجربے کا مشاہدہ کیا، جسے ملک کے اسٹریٹجک فوجی نظام میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ کم جونگ اُن نے واضح کیا کہ وہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے ایسے جدید، ناقابلِ سراغ میزائل تیار کرنا چاہتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سالڈ فیول میزائلز کو حرکت دینا اور چھپانا آسان ہوتا ہے، جبکہ مائع ایندھن والے میزائلز کے برعکس انہیں لانچ سے پہلے بھرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جس سے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نے قانون سازوں کو بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ انجن ٹیسٹ ممکنہ طور پر ایسے طاقتور میزائل کی تیاری سے متعلق ہے جو متعدد جوہری وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

شمالی کوریا 2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ناکام سفارتی مذاکرات کے بعد سے اپنے جوہری پروگرام کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے۔ فروری میں ورکرز پارٹی کے اجلاس میں کم جونگ اُن نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا اشارہ دیا، تاہم امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کو مذاکرات کی شرط نہ بنائے۔

تازہ میزائل تجربات اور جدید ناقابلِ سراغ ہتھیار بنانے کے اعلان نے ایک بار پھر خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو غیر یقینی بنا دیا ہے اور عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔