بٹ کوائن کا خالق کون؟ ممکنہ شناخت سامنے آگئی
بٹ کوائن بنانے والا آخر کون ہے؟ یہ سوال سنہ 2009 سے ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک ایسا معمہ رہا ہے جس نے ہر کسی کو الجھائے رکھا۔ اگرچہ اس کے تخلیق کار کا نام ساتوشی ناکاموٹو بتایا جاتا ہے، لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ اس نام کے پیچھے چھپی اصل شخصیت کون ہے۔ اب ایک تازہ ترین رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بٹ کوائن کا اصل خالق کوئی اور نہیں بلکہ برطانیہ کے ایک ماہرِ ٹیکنالوجی ایڈم بیک ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی جانب سے کی گئی ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام تر شواہد اسی برطانوی ماہر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اگرچہ ایڈم بیک ماضی میں کئی بار اس بات سے انکار کر چکے ہیں، لیکن رپورٹ کے مطابق ان کے انکار کے باوجود موجود حقائق اس قدر مضبوط ہیں کہ انہیں جھٹلانا مشکل معلوم ہوتا ہے۔
یہ سارا سلسلہ سنہ 2008 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب ساتوشی ناکاموٹو کے نام سے ایک تحقیقی مقالہ منظرِ عام پر آیا، جس میں ایک ایسے مالیاتی نظام کا تصور پیش کیا گیا تھا جو کسی بینک یا حکومت کے کنٹرول میں نہ ہو۔ اس کے اگلے ہی سال دنیا کا پہلا بٹ کوائن تیار کیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ٹیکنالوجی پوری دنیا میں مقبول ہو گئی۔ تاہم جب اس کی شہرت عروج پر تھی، تو سنہ 2011 میں ساتوشی ناکاموٹو اچانک غائب ہو گئے اور تب سے اب تک ان کی طرف سے مکمل خاموشی ہے۔
نئی رپورٹ میں ایڈم بیک کو ساتوشی قرار دینے کے پیچھے کئی اہم دلائل دیے گئے ہیں۔ ماہرین نے مہینوں تک پرانی ای میلز، انٹرنیٹ فورمز پر کی گئی گفتگو اور کوڈنگ کے ریکارڈز کا جائزہ لیا ہے۔
اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایڈم بیک کے کام کرنے کا انداز اور بٹ کوائن کے بنیادی خیالات میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔
ایڈم بیک نے ’ہیش کیش‘ نامی ایک نظام بنایا تھا جو فضول ای میلز کو روکنے کے لیے استعمال ہوتا تھا، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بٹ کوائن میں استعمال ہونے والا ’پروف آف ورک‘ کا طریقہ کار اسی سے ملتا جلتا ہے۔
اس کے علاوہ ان کے لکھنے کا انداز، برطانوی انگریزی کا استعمال اور جملوں کے درمیان دوہری جگہ چھوڑنے جیسی چھوٹی چھوٹی عادتیں بھی ساتوشی ناکاموٹو کی تحریروں سے مماثلت رکھتی ہیں۔
ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ بٹ کوائن کے پہلے مقالے میں ایڈم بیک کا حوالہ موجود تھا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ ساتوشی نے 2008 میں ان سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا تھا۔
عام طور پر اسے اس بات کا ثبوت مانا جاتا ہے کہ یہ دو الگ لوگ ہیں، لیکن نئی رپورٹ یہ نظریہ پیش کرتی ہے کہ شاید یہ رابطہ محض لوگوں کو الجھانے اور اپنی اصل شناخت چھپانے کے لیے کیا گیا تھا۔
اگرچہ یہ دعویٰ بہت بڑا ہے، لیکن اسے ابھی تک مکمل طور پر حتمی نہیں مانا جا رہا۔ ایڈم بیک اب بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ بٹ کوائن کے خالق نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی سو سے زائد افراد کے نام ساتوشی سے جوڑے گئے لیکن کوئی بھی ثابت نہ ہو سکا۔
حقیقت یہ ہے کہ ساتوشی ناکاموٹو کی شناخت کی تصدیق کا واحد راستہ وہ بٹ کوائن والیٹ یا ڈیجیٹل بٹوہ ہے جس میں اربوں پاؤنڈ مالیت کے سکے موجود ہیں۔ اگر وہ شخص ان سکوں کو حرکت دے سکے تو دنیا کو یقین ہو جائے گا، مگر وہ والیٹ سنہ 2011 سے بالکل خاموش ہے۔ بٹ کوائن کی دنیا میں یہ گمنامی ہی اس کی سب سے بڑی کشش سمجھی جاتی ہے۔
ساتوشی نے سنہ 2011 میں اپنا آخری پیغام چھوڑا تھا کہ اب یہ منصوبہ محفوظ ہاتھوں میں ہے، اور تب سے یہ معمہ برقرار ہے کہ کیا واقعی ایڈم بیک ہی وہ پراسرار انسان ہیں جس نے مالیاتی دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا؟
















