تاریخ کی سب سے بڑی ڈیجیٹل ڈکیتی: ہیکر نے چین کے سرکاری سُپر کمپیوٹر سے 10 پیٹا بائٹس ڈیٹا اڑا لیا
چین کے ایک سرکاری سپر کمپیوٹنگ سینٹر پر ہونے والے ایک بڑے سائبر حملے نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے جہاں ایک ہیکر نے دس پیٹا بائٹس سے زیادہ کا انتہائی حساس ڈیٹا چوری کر لیا ہے۔
اس چوری شدہ مواد کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک پیٹا بائٹ ایک ہزار ٹیرا بائٹ کے برابر ہوتا ہے، جبکہ ایک عام اچھے لیپ ٹاپ میں صرف ایک ٹیرا بائٹ ڈیٹا ہی سما سکتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ چوری چین کی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیٹا لیکس میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے جس میں دفاعی دستاویزات سے لے کر میزائلوں کے نقشے تک شامل ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ڈیٹا تیانجن میں واقع نیشنل سپر کمپیوٹنگ مرکز سے نکالا گیا ہے جو چین کا پہلا بڑا کمپیوٹنگ مرکز ہے اور اسے 6000 سے زائد ادارے استعمال کرتے ہیں۔ ان اداروں میں سائنسی تحقیق کرنے والے مراکز کے ساتھ ساتھ دفاعی کام کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔
اس حملے کے پیچھے فلیمنگ چائنا نامی ایک ہیکر کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے جس نے فروری کے آغاز میں ٹیلی گرام کے ایک گمنام چینل پر اس چوری شدہ ڈیٹا کے کچھ نمونے بھی دکھائے ہیں۔ اس ڈیٹا میں خلائی انجینئری، فوجی تحقیق، انسانی خلیوں کی ساخت (بائیو انفورمیٹکس) اور ایٹمی توانائی (فیوژن سیمیولیشن) جیسے اہم شعبوں کی معلومات موجود ہیں۔
تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ چوری کسی بہت پیچیدہ طریقے سے نہیں بلکہ سسٹم کی ایک کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کی گئی۔
ہیکر نے ایک وی پی این کے ذریعے سسٹم تک رسائی حاصل کی اور مسلسل چھ ماہ تک خاموشی سے ڈیٹا نکالتا رہا۔ پکڑے جانے سے بچنے کے لیے ہیکر نے ایک ساتھ سارا ڈیٹا نکالنے کے بجائے چھوٹی چھوٹی قسطوں میں معلومات منتقل کیں تاکہ سیکیورٹی کے نظام کو شک نہ ہو۔
سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار اگرچہ نیا نہیں ہے لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ دفاعی نظام میں کہیں نہ کہیں بڑی خامیاں موجود تھیں۔
اب یہ تمام معلومات انٹرنیٹ پر بھاری قیمت کے عوض فروخت کے لیے پیش کی جا رہی ہیں اور لین دین کے لیے کرپٹو کرنسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ ان تمام دعوؤں کی مکمل تصدیق ابھی باقی ہے لیکن جن ماہرین نے نمونے کے طور پر دی گئی دستاویزات کا معائنہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ان پر سرکاری مہریں اور خفیہ کے الفاظ درج ہیں۔
















