جوہی چاولہ کی ایک غلطی، جس نے کرشمہ کپور کو ’بولی ووڈ کوئین‘ بنادیا
بولی ووڈ کی تاریخ میں کئی بار ایک فیصلے نے کسی گمنام ستارے کو بلندیوں پر پہنچا دیا تو کبھی کسی سپر اسٹار کے زوال کی وجہ بنا۔ ایسا ہی کچھ 90 کی دہائی کی مقبول اداکارہ جوہی چاؤلہ کے ساتھ ہوا جس نے کرشمہ کپور کی تقدیر بدل دی تھی۔
بولی ووڈ میں کامیابی کا دارومدار صرف ٹیلنٹ پر نہیں بلکہ درست وقت پر درست فیصلے پر بھی ہوتا ہے۔
90 کی دہائی میں جب جوہی چاؤلہ اپنی معصوم مسکراہٹ اور بہترین ’کامک ٹائمنگ‘ کی وجہ سے فلم نگری پر راج کر رہی تھیں، تب ان کی ایک ’تکنیکی غلطی‘ اور ہدایت کار کے ساتھ تلخ کلامی نے ان کے کیریئر کا رخ موڑ دیا۔
یہ کہانی ہے 1996 کی بلاک بسٹر فلم ”راجہ ہندوستانی“ کی، جو جوہی کے ہاتھ سے نکل کر کرشمہ کپور کی جھولی میں جا گری۔ اس غلطی کا اداکارہ کو آج تک پچھتاوا ہے۔

عامر خان اور جوہی چاؤلہ کی جوڑی ’قیامت سے قیامت تک‘ اور ’ہم ہیں راہی پیار کے‘ جیسی فلموں کی کامیابی کے بعد باکس آفس میں کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔
عامر خان اس فلم کو پہلے ہی سائن کر چکے تھے، اسی لیے ہدایت کار دھرمیش درشن اپنی نئی فلم ’راجہ ہندوستانی‘ کے لیے جوہی کو ہی کاسٹ کرنا چاہتے تھے۔

فلم میں ایک امیر باپ کی معصوم بیٹی کے کردار کے لیے جوہی ان کا پہلا اور بہترین انتخاب تھیں۔ تاہم، جب دھرمیش درشن نے کہانی کے ساتھ جوہی سے رابطہ کیا تو چیزیں ان کی توقع کے بالکل برعکس سامنے آئیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسکرپٹ پر بات چیت کے دوران جوہی چاؤلہ اور دھرمیش درشن کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔
دھرمیش درشن اپنی فلموں میں تفصیلات پر سمجھوتہ نہیں کرتے تھے اورسیٹ پر کافی سخت جانے جاتے تھے، جبکہ جوہی اس وقت اپنے عروج پر ہونے کی وجہ سے کافی نکتہ چین ہو چکی تھیں۔

تنازع اس وقت شروع ہوا جب جوہی نے فلم کی کہانی کے بارے میں دھرمیش درشن سے سوال کرنا شروع کر دیا۔ یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب دھرمیش نے اپنی فلم کا موازنہ سورج برجاتیا کی فلموں سے کیا، جس پر جوہی نے فوراً جواب دیا: ”لیکن آپ سورج برجاتیا نہیں ہیں۔“
دھرمیش نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا: ”تو پھر آپ بھی مادھوری ڈکشٹ نہیں ہیں۔“ یاد رہے کہ اس دور میں مادھوری اور جوہی ایک دوسرے کی سخت حریف سمجھی جاتی تھیں۔
اس تلخ کلامی کے بعد جوہی نے معذرت تو کی لیکن دھرمیش کا ارادہ بدل چکا تھا اور جوہی کو فلم سے الگ کر کے یہ کردار کرشمہ کپور کو دے دیا، جو اس وقت صرف کمرشل فلموں تک محدود سمجھی جاتی تھیں۔ لیکن ’راجہ ہندوستانی‘ کی ریلیز نے بولی ووڈ میں جیسے آگ سی لگادی۔

فلم نے کمائی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔ فلم کے گانے، خاص طور پر “پردیسی پردیسی”، اور عامر-کرشمہ کی کیمسٹری نے دھوم مچا دی۔
’راجہ ہندوستانی‘ بلاک بسٹر ثابت ہوئی اور کرشمہ کپور کو بہترین اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔ وہ دیکھتے ہی دیکھتے بولی ووڈ کی ٹاپ اداکاراؤں میں شامل ہو گئیں۔
اگرچہ جوہی نے بعد میں ’عشق‘ اور ’یس باس‘ جیسی کامیاب فلمیں دیں، لیکن خیال ہے کہ ’راجہ ہندوستانی‘ کو ٹھکرانا ان کی سب سے بڑی اسٹریٹجک غلطی تھی۔
اس فلم نے کرشمہ کپور کو بالی ووڈ کی نئی ’کوئین‘ بنا دیا، جبکہ جوہی آہستہ آہستہ صفِ اول کی دوڑ میں مادھوری اور کرشمہ سے پیچھے رہ گئیں۔
















