مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی، منجمد اثاثے بحال کیے جائیں: ایران

مذاکرات شروع ہونے سے قبل ان دونوں شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے: باقر قالیباف
اپ ڈیٹ 10 اپريل 2026 09:21pm

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد اہم ترین مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہفتے کے روز شیڈول ہیں۔ ایران نے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کو لازمی قرار دیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ فریقین کے درمیان باہمی طور پر طے پانے والے دو نکات پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان نکات میں سے ایک لبنان میں جنگ بندی اور دوسرا ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات شروع ہونے سے قبل ان دونوں شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے۔‘

باقر قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں انتہائی اہم اور تاریخی مذاکرات منعقد ہونے جا رہے ہیں، جس کے نتائج مشرق وسطیٰ اور پورے خطے کے مستقبل کے لیے فیصلہ کُن ثابت ہو سکتے ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کچھ دیر قبل واشنگٹن سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوچکے ہیں جب کہ ان کے ہمراہ مذاکراتی ٹیم میں ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف شامل ہوں گے۔

ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا نام سامنے آیا ہے۔

اسلام آباد روانگی سے قبل واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے انہیں ایران سے مذاکرات کیلئے ہدایات دی ہیں۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ یہ مذاکرات تعمیری اور معنی خیز ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تو امریکا بھی کھلے دل کے ساتھ آگے بڑھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے اس صورت حال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو امریکی وفد کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور ایسا رویہ قطعی طور پر قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

دوسری جانب امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کے دوران ایران میں زیرِ حراست امریکیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق فی الحال یہ واضح نہیں کہ امریکی وفد اس معاملے میں ایران پر کتنا دباؤ ڈالے گا، کیونکہ اگر مذاکرات میں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں تو حالات کو دیکھتے ہوئے اس مطالبے کو مؤخر بھی کیا جاسکتا ہے۔

ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکاتی تجاویز میں لبنان میں جنگ بندی پر عمل درآمد، آبنائے ہرمز پر نگرانی کا اختیار، خطے سے امریکی افواج کے انخلا، منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے مطالبات شامل ہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کو سب سے بڑا خطرہ لبنان کی موجودہ صورت حال سے لاحق ہے جہاں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو مذاکرات بے معنی ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکا کا مؤقف ہے کہ لبنان جنگ بندی کا حصہ نہیں جب کہ پاکستان یہ واضح کرچکا ہے کہ یہ پورے خطے پر لاگو ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ان ہائی پروفائل مذاکرات کا بنیادی مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو روکنے اور مستقل امن کی جانب پیش رفت ہے۔ اس کے علاوہ دیگر کئی اہم معاملات پر بھی بات چیت کا امکان ہے۔

دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہے، جہاں ان تمام اختلافات کے باجود اہم فیصلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔