جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں، دیہات مکمل طور پر مسمار
جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران متعدد سرحدی دیہات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، جہاں گھروں کو بارودی مواد سے اُڑا کر زمین بوس کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ کارروائیاں بڑے پیمانے پر ریموٹ کنٹرول دھماکوں کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارجین کی جانب سے جائزہ لی گئیں ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے سرحدی دیہات طیبہ، نقورہ اور دیر سریان میں بڑے پیمانے پر دھماکے کیے۔
لبنانی میڈیا نے دیگر سرحدی علاقوں میں بھی ایسی ہی کارروائیوں کی اطلاع دی ہے، تاہم ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے سیٹلائٹ تصاویر فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔
یہ کارروائیاں اس وقت سامنے آئیں جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سرحدی دیہات میں تمام گھروں کو تباہ کرنے کا مطالبہ کیا، اور اس حوالے سے غزہ کے علاقوں رفح اور بیت حنون میں اپنائے گئے ماڈل کی پیروی کی بات کی۔ اسرائیلی فوج اس سے قبل جنوبی غزہ کے شہر رفح میں تقریباً 90 فیصد گھروں کو تباہ کر چکی ہے۔
غزہ میں گھروں کے بڑے پیمانے پر تباہی کو ماہرین نے ڈومیسائیڈ قرار دیا ہے، جو ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کے تحت شہری رہائش گاہوں کو منظم انداز میں تباہ کر کے پورے علاقے کو ناقابلِ رہائش بنا دیا جاتا ہے۔ اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات بھی عائد کیے جا چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے جیسے سرنگیں اور عسکری تنصیبات ہیں، جنہیں ان کے مطابق شہری گھروں میں قائم کیا گیا ہے۔
اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے دریائے لیتانی تک ایک سیکیورٹی زون قائم کرے گا، اور جب تک شمالی اسرائیل کے شہروں کی سیکیورٹی یقینی نہیں بن جاتی، بے گھر افراد کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس اعلان نے طویل مدتی بے دخلی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کارروائیوں کو ممکنہ طور پر جنگی جرم قرار دے رہی ہیں۔ قوانینِ جنگ کے تحت شہری گھروں کی دانستہ تباہی ممنوع ہے، سوائے اس کے کہ وہ کسی جائز فوجی ضرورت کے تحت ہو۔
ہیومن رائٹس واچ کے لبنان ریسرچر رمزی قیس کے مطابق، اگر حزب اللہ کچھ شہری عمارتوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال بھی کرے، تب بھی پورے سرحدی دیہات کی وسیع پیمانے پر تباہی کا جواز نہیں بنتا۔
سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے یہ مناظر انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوئے ہیں، جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے گھروں اور یادوں کو مٹتے دیکھا۔ طیبہ سے تعلق رکھنے والے 56 سالہ دکاندار احمد ابو طعم نے بتایا کہ ہم نے سب سے پہلے قصبے کے مرکزی چوک کو دھماکے سے اڑتے دیکھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میری دکان بھی وہیں تھی۔ انسان کی پوری زندگی، اس کا کام اور یادیں ایک جگہ سے جڑی ہوتی ہیں، اور اچانک آپ اسے اپنی آنکھوں کے سامنے تباہ ہوتا دیکھتے ہیں۔ اسی لمحے مجھے لگا کہ میں مہاجر بن گیا ہوں۔













