جنگ کی دستک: دنیا بھر میں فوجی اخراجات 16 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے
دنیا بھر میں فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے اور ایک نئی رپورٹ کے مطابق یہ سطح گزشتہ 16 سال کی بلند ترین حد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ سویڈن کے تحقیقی ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران عالمی سطح پر دفاعی اخراجات میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں فوجی اخراجات تقریباً 2.9 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے، جو عالمی معیشت کے کل حجم کا تقریباً 2.5 فیصد بنتا ہے۔ یہ شرح 2009 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ یورپ اور ایشیا میں دفاعی بجٹ میں تیزی سے اضافہ بتایا گیا ہے۔
یورپ میں فوجی اخراجات میں 14 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 864 ارب ڈالر تک جا پہنچے، جبکہ ایشیا اور اوشیانا کے خطے میں 8.1 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور اخراجات 681 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ ماہرین کے مطابق مختلف خطوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات اس اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ، چین، روس، جرمنی اور بھارت دنیا کے سب سے بڑے فوجی اخراجات کرنے والے ممالک رہے اور مجموعی عالمی اخراجات کا 58 فیصد انہی ممالک پر مشتمل ہے۔ امریکہ بدستور پہلے نمبر پر ہے جس نے 2025 میں تقریباً 954 ارب ڈالر دفاع پر خرچ کیے، جبکہ چین اور روس بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
اگرچہ مجموعی اضافہ 2024 کے مقابلے میں کم رہا، کیونکہ اس سال امریکہ نے یوکرین کے لیے نئی فوجی امداد منظور نہیں کی، لیکن امریکہ کو نکال کر دیکھا جائے تو دنیا بھر میں دفاعی اخراجات میں 9.2 فیصد اضافہ ہوا، جو ایک بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
یورپ میں نیٹو کے رکن ممالک نے تیزی سے اپنے دفاعی بجٹ بڑھائے۔ بیلجیئم، اسپین، ناروے، ڈنمارک، جرمنی، پولینڈ اور کینیڈا جیسے ممالک میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ یورپ کی خود انحصاری کی کوششوں اور امریکہ کی جانب سے اتحادیوں پر دفاعی ذمہ داری بڑھانے کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔
ایشیا میں بھی یہی رجحان دیکھنے میں آیا۔ جاپان نے اپنے دفاعی اخراجات میں تقریباً 10 فیصد اضافہ کیا، جو اس کے لیے کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ اسی طرح آسٹریلیا، فلپائن اور دیگر ممالک بھی اپنے دفاع کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ خطے میں پرانی کشیدگیاں اور دوسری جانب امریکہ کی حمایت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بتائی جا رہی ہے۔
تائیوان نے بھی اپنے دفاعی اخراجات میں 14 فیصد سے زائد اضافہ کیا، جو کئی دہائیوں میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ چین نے بھی مسلسل 31ویں سال اپنے فوجی بجٹ میں اضافہ کیا اور 2025 میں اس میں 7.4 فیصد اضافہ ہوا، کیونکہ وہ 2035 تک اپنی فوج کو جدید بنانے کا ہدف رکھتا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ بھی عالمی اخراجات پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔ یوکرین اپنی معیشت کا تقریباً 40 فیصد دفاع پر خرچ کر رہا ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ روس بھی اپنے بجٹ کا بڑا حصہ فوج پر لگا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر جنگ جاری رہی تو 2026 میں یہ اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب سب سے بڑا دفاعی خرچ کرنے والا ملک رہا، جبکہ اسرائیل کے اخراجات میں کمی دیکھنے میں آئی، جس کی وجہ غزہ میں کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کو قرار دیا گیا ہے۔ ایران کے بارے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کم ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ دیگر ذرائع سے بھی اپنے فوجی پروگرام کو فنڈ کرتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں بھارت نے اپنے دفاعی اخراجات میں تقریباً 9 فیصد اضافہ کیا، جس کی ایک بڑی وجہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی بتائی گئی ہے۔ افریقہ میں بھی مجموعی طور پر فوجی اخراجات میں اضافہ ہوا، جہاں الجزائر نمایاں خرچ کرنے والا ملک ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جاری تنازعات اور سیکیورٹی خدشات کے باعث امکان ہے کہ آنے والے برسوں میں دفاعی اخراجات میں مزید اضافہ جاری رہے گا، اور 2026 اور اس کے بعد بھی یہ رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔












