ایران کی عالمی بحری گزرگاہوں کو یرغمال بنانے کی کوشش برداشت نہیں کریں گے: روبیو

آبنائے ہرمز عالمی بحری راستہ ہے، ایران کو یہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں کہ وہاں سے کون گزرے گا: امریکی وزیر خارجہ
شائع 27 اپريل 2026 09:59pm

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کسی بھی صورت عالمی بحری گزرگاہوں کو یرغمال بنانے کی کوشش برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ دھونس، دھمکی یا طاقت کے زور پر بحری راستے بند کرنا قابل قبول نہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کی اجازت یا اسے ادائیگی کرکے بحری جہازوں کا گزرنا، راستہ کھلنا نہیں کہلاتا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز ایک عالمی بحری راستہ ہے اور ایران کو یہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں کہ وہاں سے کون گزرے گا۔

امریکی وزیر خارجہ نے امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ ایران کی جانب سے بحری راستوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے نظام کو کبھی تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ امریکا کسی بھی ملک کو بین الاقوامی آبی راستوں کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے ایران کے آبنائے ہرمز کھلے ہونے کے دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ملک کی طرف سے گزرگاہ کھولنے کا مطلب یہ ہو کہ اجازت یا ادائیگی کے بغیر راستہ نہیں دیا جائے گا تو یہ بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے۔

مارکو روبیو کے مطابق عالمی آبی گزرگاہیں کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں ہوتیں اور نہ ہی یہ قابل قبول ہے کہ ایران جیسے ملک طے کرے کہ کون ان راستوں کو استعمال کر سکتا ہے اور اس کے لیے کتنی رقم ادا کرنی ہوگی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایرانی مذاکرات کار امریکا سے ڈیل کے لیے سنجیدہ ہیں اور وہ موجودہ خرابی سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن ایرانی حکومتی قیادت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ وہ مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

روبیو نے کہا کہ ایرانی حکومتی قیادت ابھی مزید وقت لینا چاہتی ہے۔ ایران کی اقتصادی حالت بری ہے۔ ایران کو جن مسائل کا سامنا جنگ سے پہلے تھا وہ آج بھی موجود ہیں۔ مہنگائی زوروں پر ہے۔ ایران کو قحط سالی کا بھی سامنا ہے۔ ان کے لیے اپنے ملازمین کو تنخواہیں دینا بھی مشکل ہے۔ 

مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ ایران کے میزائل آدھے رہ چکے ہیں، میزائل بنانے کی فیکٹریاں ختم ہوچکی ہیں، نہ ایران کی فضائیہ بچی ہے نہ ایران کی نیوی بچی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران پر لگی اقتصادی پابندیاں غیر معمولی ہیں۔ ایران پر اقتصادی پابندیوں کا بہت دباؤ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ دباؤ مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والی شپنگ حالیہ کشیدگی کے باعث شدید متاثر ہوئی ہے، جب کہ تیل اور گیس کی ترسیل میں کمی کے بعد عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ادھر ایران کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ کسی ممکنہ امن معاہدے کے تحت ٹرانزٹ فیس لگانے پر غور کیا جا سکتا ہے، جس پر امریکا نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔