امریکا کے جدید ڈیفنس سسٹم 'پیٹریاٹ' کو ایران کے 60 سال پرانے 'ایف 5' جیٹ نے تباہ کیا: رپورٹ
امریکی میڈیا کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایران نے کویت میں موجود اہم امریکی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ایک پرانے ایرانی ’ایف 5‘ جنگی طیارے کا استعمال کیا۔ اس طیارے نے نہ صرف امریکا کے جدید ترین ’پیٹریاٹ‘ میزائل ڈیفنس سسٹم کو چکمہ دیا بلکہ کویت میں واقع امریکی فوجی اڈے ’کیمپ بیوہرنگ‘ پر بمباری بھی کی۔ ان انکشافات نے امریکی فضائی دفاع اور اسٹریٹجک برتری کے دعوؤں کو چیلنج کر دیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایرانی فضائیہ کے ایک پرانے ’ایف 5‘ جنگی طیارے کی جانب سے کویت میں کیمپ بیوہرنگ کی مثالی سیکیورٹی اور جدید ترین ریڈار سسٹم کو دھوکہ دے کر کامیاب بمباری ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔
ایک رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی ’ایف 5‘ نے نچلی پرواز کرتے ہوئے بم گرائے اور ریڈار کی خامیوں کا فائدہ اٹھایا۔ اس حملے نے ثابت کیا کہ پرانے فورتھ جنریشن طیارے بھی جدید ترین فضائی دفاعی نظام کو دھوکہ دے سکتے ہیں۔
ایران کے پاس موجود ’ایف 5‘ طیارہ امریکی ساختہ ہلکا لڑاکا طیارہ ہے، جسے امریکا کی کمپنی ’نارتھروپ‘ نے 1950 کی دہائی کے آخر میں ڈیزائن کیا تھا۔
اس کا جدید ورژن ’ایف-5 ای ٹائیگر‘ سنہ 1972 میں متعارف کروایا گیا تھا۔ شاہِ ایران نے 60ء اور 70ء کی دہائی میں امریکا سے تقریباً 140 سے 160 طیاروں کا سودا کیا تھا۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق ایران کے پاس اب بھی 35 سے 50 کے قریب فعال ’ایف 5‘ طیارے موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے اس طیارے کی بنیاد پر اپنے مقامی طیارے بھی بنائے ہیں، جن میں ’صاعقہ‘ اور ’کوثر‘ شامل ہیں۔
این بی سی کے مطابق یہ رپورٹ امریکی حکام، کانگریس کے ذرائع اور خفیہ بریفنگز سے واقف افراد سے حاصل کی گئی ہیں تاہم اگر اس کی باضابطہ تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی فضائیہ کو تباہ کرنے کے دعوؤں کی نفی اور امریکا کے مضبوط ترین دفاعی نظام میں غیر معمولی شگاف تصور ہوگا۔
عسکری ماہرین کے مطابق پیٹریاٹ سسٹم بنیادی طور پر میزائلوں کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور کسی طیارے کا نچلی پرواز کے ذریعے اسے عبور کر لینا ریڈار کے ’بلائنڈ اسپاٹس‘ اور دفاعی تہہ بندی کی خامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس واقعے کی اہمیت صرف نقصان تک محدود نہیں بلکہ یہ دفاعی حکمت عملی پر بھی سوال اٹھاتا ہے، کیوں کہ جدید دفاعی نظام کم بلندی پر پرواز کرنے والے اہداف یا بیک وقت متعدد حملوں کے سامنے کمزور پڑ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کویت سمیت مختلف خلیجی ممالک میں جن امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، ان میں گودام، طیارہ ہینگرز، کمانڈ سینٹرز، ریڈار سسٹمز، رن ویز اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن مراکز شامل ہیں۔
اگرچہ پینٹاگون کی جانب سے مکمل نقصان کا باضابطہ تخمینہ جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی سیٹلائٹ تصاویر کی جامع تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں، تاہم مختلف میڈیا رپورٹس میں خلیج میں امریکی تنصیبات، طیاروں اور آپریشنل ڈھانچے کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ اربوں ڈالر تک لگایا گیا ہے۔
جس میں کویت میں واقع کیمپ بیوہرنگ اور کیمپ عریفجان خاص طور پر شامل ہیں، جو خطے میں امریکی فوجی لاجسٹکس اور آپریشنز کے اہم مراکز سمجھے جاتے ہیں۔ ان مقامات پر حملوں کے اثرات صرف مقامی نقصان تک محدود نہیں بلکہ اس سے فوجی نقل و حرکت، رسد کی ترسیل اور آپریشنل رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطبق یکم مارچ کو کویت کی شیبہ بندرگاہ کے قریب ہونے والا ڈرون حملہ اس تنازعے کے دوران امریکی افواج کو پہنچنے والا سب سے بڑا جانی نقصان ہے، جس میں امریکی فوج کے چھ اہلکار ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق، امریکا کے فوجی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی، تباہ شدہ طیاروں اور ریڈار سسٹم کی تبدیلی پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ 2 سے 5 ارب ڈالر کے درمیان لگایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تنازع نے امریکی عسکری منصوبہ سازوں کے ان طویل مدتی مفروضوں کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ جدید جنگوں میں صرف جدید فضائی دفاعی نظام ہی اہم تنصیبات اور فوجی اڈوں کو مکمل تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔













