عباس عراقچی کا دورہ اسلام آباد جوہری مذاکرات سے متعلق نہیں: ایرانی میڈیا
ایرانی میڈیا نے واضح کیا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ اسلام آباد جوہری مذاکرات سے متعلق نہیں بلکہ اس کا مقصد خطے کی صورت حال اور سفارتی مشاورت ہے۔ دوسری جانب ایران نے امریکا کو جوہری معاملات اور آبنائے ہرمز پر اپنی ریڈ لائنز واضح کر دیں۔
ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دوبارہ دورہ پاکستان کا ایران کے ایٹمی مسئلے سے کوئی تعلق نہیں، پاکستان، عمان اور روس کے اپنے جاری علاقائی دورے کے دوران وہ اسلام آباد کے پہلے دورے کے محض ایک دن بعد دوبارہ مختصر دورے پر پاکستان پہنچے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عباس عراقچی کی پاکستان آمد کا مقصد ہمسایہ ملک کے ساتھ مشاورت جاری رکھنا ہے جب کہ وہ پاکستانی حکام کو خطے کی صورت حال اور ایران کے مؤقف سے آگاہ کر رہے ہیں۔
دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ کے ایجنڈے کا اہم نکتہ پاکستانی فریق کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط سے آگاہ کرنا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ عباس عراقچی کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل میں آبنائے ہرمز پر نئے قانونی نظام کا نفاذ،جنگ کے دوران نقصانات کا معاوضہ وصول کرنا، اس بات کو یقینی بنانا کہ جنگ بھڑکانے والے عناصر ایران کے خلاف مزید فوجی جارحیت نہیں کریں گے اور ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ پہلے ہی 25 اپریل کو اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کر چکے ہیں جب کہ اس کے بعد وہ عمان کے دارالحکومت مسقط گئے جہاں انہوں نے عمان کے سلطان سے ملاقات کی۔
تسنیم نیوز ایجنسی نے بتایا کہ عباس عراقچی دوبارہ اسلام آباد واپس آئے ہیں جہاں وہ مختصر قیام کے بعد روس کے دارالحکومت ماسکو روانہ ہوں گے۔
یاد رہے کہ خطے میں حالیہ کشیدگی اور جنگ بندی کے بعد ایران اور دیگر فریقین کے درمیان مختلف سفارتی رابطے جاری ہیں، جن میں پاکستان کو ثالثی کا کردار بھی حاصل ہے۔
ایران نے امریکا پر اپنی ریڈلائنز واضح کر دیں
دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکا کو جوہری معاملات اور آبنائے ہرمز پر اپنی ریڈ لائنز واضح کردی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورے میں ثالث پاکستان کے ذریعے امریکا کو تحریری پیغامات پہنچائے گئے ہیں، جن میں تہران کی ’ریڈ لائنز‘ کو واضح کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ پیغامات ایران کے جوہری معاملات اور آبنائے ہرمز سے متعلق پالیسی سمیت اہم نکات پر مشتمل ہیں، جنہیں ایران اپنی بنیادی پوزیشن قرار دیتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھیجے گئے پیغامات میں ایران کی ان حدود و قیود کو واضح کیا گیا ہے جن پر وہ کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ باخبر ذرائع کے مطابق عباس عراقچی اپنی سفارتی ذمہ داریوں اور وزارت خارجہ کے طے کردہ دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے یہ پیغام رسانی کر رہے ہیں۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق یہ پیغامات براہ راست مذاکرات کا حصہ نہیں بلکہ خطے کی صورتحال کو واضح کرنے کے لیے ایران کی جانب سے ایک اقدام قرار دیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران نے ان پیغامات کے ذریعے اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے امریکا کو اپنی شرائط سے آگاہ کیا ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتوں کے بعد اسلام آباد سے مسقط روانہ ہوگئے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مسقط سے ماسکو روانہ ہونا تھا تاہم عباس عراقچی اب دوبارہ اسلام آباد آئے ہیں۔












