کئی ممالک کو پاکستان کے راستے ایران تک سامان کی ترسیل کی اجازت
وفاقی حکومت نے علاقائی تجارت کے فروغ اور سرحد پار روابط کو مضبوط بنانے کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ٹرانزٹ آف گڈز آرڈر 2026 نافذ کر دیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
وزارتِ تجارت کے مطابق اس نئے نظام کے تحت پاکستان کے راستے تیسرے ممالک سے ایران تک سامان کی ترسیل کی اجازت دی گئی ہے، جس سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو بطور تجارتی راہداری مزید مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے گا۔
دستاویز کے مطابق 25 اپریل 2026 کو جاری کیے گئے ایس آر او 691(I)/2026 کے تحت یہ فریم ورک متعارف کرایا گیا، جو پاکستان اور ایران کے درمیان 2008 میں طے پانے والے بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ معاہدے کے تحت نافذ العمل ہو چکا ہے۔
اس میں ٹرانزٹ تجارت کے لیے واضح طریقہ کار وضع کیے گئے ہیں، جن میں کراس اسٹفنگ، کسٹمز سیکیورٹی اور شپنگ سے متعلق فریقین کی ذمہ داریاں شامل ہیں۔
حکومت نے ٹرانزٹ آف گڈز کے لیے باضابطہ روٹس کا تعین بھی کر دیا ہے، جن میں گوادر، کراچی اور تفتان کے مرکزی راستوں کے ساتھ متعدد ذیلی کوریڈورز شامل ہیں۔
ان میں گوادر-گبد، کراچی/پورٹ قاسم، اورماڑہ،پسنی،گبد، کراچی/پورٹ قاسم، خضدار، دالبندین، تفتان سمیت دیگر توسیعی راستے شامل ہیں، جو گوادر، تربت، پنجگور، خضدار، کوئٹہ اور تفتان کو آپس میں منسلک کرتے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ روٹس لاجسٹکس نظام کو بہتر بنانے اور تجارتی بہاؤ کو تیز کرنے میں مدد دیں گے۔
نوٹیفکیشن میں گوادر بندرگاہ کو باضابطہ طور پر ٹرانزٹ اور تجارتی مقاصد کے لیے شامل کر لیا گیا ہے، جس سے بندرگاہ کی اسٹریٹجک اہمیت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
حکم نامے کے تحت ٹرانزٹ کارگو کے لیے مالی گارنٹی کو لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ تاجروں کو درآمدی ڈیوٹی کے مساوی کسٹمز سیکیورٹی فراہم کرنا ہوگی۔
تمام ترسیل کسٹمز ایکٹ 1969 اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے قواعد کے تحت ریگولیٹ کی جائے گی تاکہ شفافیت اور قانون پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ٹرانزٹ تجارت میں آسانی، رکاوٹوں میں کمی اور پاکستان و ایران کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید استحکام ملے گا، جبکہ پاکستان خطے میں ایک اہم تجارتی و ٹرانزٹ حب کے طور پر ابھر سکے گا۔
















