ایران جنگ پر 25 ارب ڈالر خرچ: امریکا میں بڑھتی مہنگائی اور سیاسی ہلچل سے ٹرمپ کی پارٹی مشکل میں

پیٹ ہیگستھ نے جنگ پر تنقید کرنے والے ڈیموکریٹ اراکین کو بزدل قرار دے دیا
شائع 30 اپريل 2026 09:08am

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے اخراجات پہلی بار باضابطہ طور پر سامنے آ گئے ہیں۔ پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بدھ کے روز انکشاف کیا ہے کہ اس تنازع پر اب تک امریکا کے 25 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ یہ رقم اتنی بڑی ہے کہ یہ ناسا جیسے عالمی شہرت یافتہ خلائی ادارے کے پورے ایک سال کے بجٹ کے برابر ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے قائم مقام کامپٹرولر جولز ہرسٹ نے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ اس خطیر رقم کا زیادہ تر حصہ گولہ بارود اور فوجی ساز و سامان کی فراہمی پر خرچ ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس میں مشرق وسطیٰ میں تباہ ہونے والے امریکی فوجی اڈوں کی مرمت اور بحالی کے اخراجات بھی شامل ہیں یا نہیں۔

اس انکشاف پر کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے جولز ہرسٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے آپ نے اس سوال کا جواب دے دیا ہے کیونکہ ہم بہت طویل عرصے سے یہ پوچھ رہے تھے لیکن کوئی بھی ہمیں یہ نمبر نہیں بتا رہا تھا۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ان اخراجات کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ انہوں نے قانون سازوں سے سوال کیا کہ آپ ایران کو ایٹمی بم حاصل کرنے سے روکنے کے لیے کیا قیمت ادا کرنا چاہیں گے؟ آپ کیا قیمت دیں گے؟

انہوں نے جنگ پر تنقید کرنے والے ڈیموکریٹ اراکین کو بزدل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس جنگ کو ایک دلدل کہہ کر دشمنوں کو پروپیگنڈے کا موقع دے رہے ہیں، ایسی بات کرنے پر آپ کو شرم آنی چاہیے۔

واضح رہے کہ یہ جنگ ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں صرف چھ ماہ باقی ہیں اور عوامی جائزوں میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 34 فیصد امریکی اس جنگ کی حمایت کر رہے ہیں۔ امریکی ووٹرز کے لیے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے، کیونکہ جنگ کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہونے سے پیٹرول کی قیمتیں گزشتہ چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ نہ صرف ایندھن بلکہ کھاد جیسی زرعی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے بھی عام شہریوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔

یاد رہے کہ اس تنازع کا آغاز 28 فروری کو ہوا تھا اور اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ایک کمزور سی جنگ بندی برقرار ہے۔ پینٹاگون نے مشرق وسطیٰ میں ہزاروں اضافی فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور تین بحری بیڑے بھی خطے میں موجود ہیں۔

اس جنگ میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ ڈیموکریٹس اس وقت مہنگائی اور جنگ کے اخراجات کو جوڑ کر عوام میں ریپبلکنز کے خلاف مہم چلا رہے ہیں، جس سے نومبر میں ہونے والے انتخابات میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول برقرار رکھنا صدر ٹرمپ کی پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔