قیادت کا زوال اور مودی امیت شاہ گٹھ جوڑ
لیڈروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کم از کم اتنی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں کہ وہ ان لوگوں کی نبض پڑھ سکیں جن کی وہ قیادت کر رہے ہیں، یعنی عوام۔ جو لیڈر ایسا کرنے سے انکار کرتے ہیں وہ بالآخر عوام کی طاقت کے ہاتھوں اپنے عہدوں سے بے دخل کر دیے جاتے ہیں۔ یہ بات کارپوریٹ قیادت کے مقابلے میں سیاسی قیادت کے تناظر میں زیادہ سچی ہے، کیونکہ کارپوریٹ سیکٹر میں ایک بااختیار بورڈ آف ڈائریکٹرز موجود ہوتا ہے جو اپنے مقاصد میں ناکام رہنے والے سی ای او سے نمٹ لیتا ہے۔
نو آموز جمہوریتوں میں ضدی اور غیر مقبول قیادت کو عموماً فوج کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا جاتا ہے، جس کی آئینی گنجائش ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ ایسی ریاستوں میں ہمیشہ ایک تابعدار عدلیہ میسر ہوتی ہے جو بعد میں اس بغاوت کو نظریہ ضرورت کے تحت قانونی جواز فراہم کر دیتی ہے۔ اس قسم کے ماحول میں یہ عوام کی گلی کوچوں کی طاقت ہی ہے جو ایک غیر مقبول لیڈر کا تختہ الٹنا ممکن بناتی ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں حکمرانوں کو ان کے اپنے ہی لوگوں نے سڑکوں پر گھسیٹا۔
ایک عظیم لیڈر وہ ہوتا ہے جو جانتا ہو کہ اسے کب قیادت کرنی ہے اور کب پیچھے ہٹنا ہے۔ پیانگ یانگ کے کم خاندان کے علاوہ کوئی دوسرا ملک بے شرمی اور مسلسل خاندانی سیاسی حکمرانی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ لوگ عموماً ایک ہی جیسے چہروں کو دیکھ دیکھ کر تھک جاتے ہیں جو پرانی شراب کو نئی پیکنگ میں پیش کرتے ہیں۔ وہ ہمالیہ جیسے بلند و بانگ وعدوں کے سوا کچھ نہیں دیتے جو شاذ و نادر ہی پورے ہوتے ہیں۔
حالیہ دور میں ملائیشیا کے ڈاکٹر مہاتیر ایک قابل ذکر استثنیٰ رہے ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین کی قیادت نے اپنے لوگوں کے لیے اچھا کام کیا ہے لیکن وہ بالکل مختلف سیاسی نظام کے تحت کام کرتے ہیں جو نہ تو مکمل طور پر سوشلسٹ ہے اور نہ ہی بے لگام سرمایہ دارانہ ہے، یہ ایک منفرد سیاسی اور معاشی نظام ہے جسے اپنانے کا حوصلہ بہت کم ممالک کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود چین میں بھی سیاسی تبدیلیاں آتی ہیں لیکن زیادہ تر طویل اور مستحکم ادوار کے بعد۔ اس کا بنیادی اصول مسلسل معاشی اور سیاسی فوائد کا حصول ہے۔
ان نظریاتی اصولوں کے برعکس نریندر مودی مجھے فرینکلن ڈی روزویلٹ کے ان الفاظ کی یاد دلاتے ہیں کہ مجھے چار تعریفیں یاد آتی ہیں، ایک بنیاد پرست وہ شخص ہے جس کے دونوں پاؤں ہوا میں ہوتے ہیں۔ ایک قدامت پسند وہ ہے جس کی ٹانگیں تو ٹھیک ہیں لیکن اس نے کبھی آگے بڑھنا نہیں سیکھا۔ ایک رجعت پسند وہ ہے جو نیند میں پیچھے کی طرف چلتا ہے۔ اور ایک لبرل وہ ہے جو اپنے دماغ کے حکم پر اپنے ہاتھ پاؤں استعمال کرتا ہے۔مودی کے اکھنڈ بھارت کی عظمت کے سراب میں یہ تمام اوصاف نظر آتے ہیں۔ وہ روزویلٹ کی ان تمام تعریفوں کا مجموعہ ہیں۔
مودی نئی دہلی میں گجرات کی معاشی کامیابی کی کہانی کے ساتھ وارد ہوئے، اگرچہ بطور وزیر اعلیٰ انہوں نے احمد آباد اور دیگر شہروں میں مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کا حکم دیا تھا۔ معصوم مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے اس مظلم نے امریکہ کو ان کا ویزا مسترد کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ انہوں نے اس توہین کو پی لیا، کیونکہ ان کی شخصیت پر وہ مگر مچھ کی کھال چڑھی ہے جسے وہ زعفرانی لباس کے پیچھے چھپانے میں بری طرح ناکام رہتے ہیں۔
مودی کی جڑیں بی جے پی کے عسکری ونگ آر ایس ایس میں پیوست ہیں۔ بی جے پی کی یہ سیاسی شہ رگ 1920 کی دہائی میں اپنے قیام کے بعد سے مسلمانوں کے قتل عام اور باقاعدہ فرقہ وارانہ فسادات کی ذمہ دار رہی ہے۔ ان کی اسی زعفرانی اپیل نے انہیں گجرات کی وزارت اعلیٰ تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ تیزی سے پارٹی کی صفوں میں اوپر چڑھے اور بھارت کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ ایک کٹر فرقہ پرست اور مسلم دشمن کا سیکولر انڈیا کا پی ایم بننا ایک مذاق ہے۔ بھارتی سیاست میں ان کی شمولیت شاید اس کی تاریخ کا سب سے طویل خودکشی کا نوٹ ہے۔ وہ بھارت کو دنیا کا عقل مند ترین بیوقوف ملک بنانے کی طرف لے جا رہے ہیں۔
تاریخی طور پربھارت شروع میں کوئی ایک ملک یا قوم نہیں تھا اور اہم بات یہ ہے کہ تاریخ میں کہیں بھی ہندو انڈیا کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس کے بجائے تمام تاریخ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ انڈیا ہمیشہ سیکولر رہا ہے۔ تقسیم سے پہلے انڈیا مختلف مہاراجاؤں، شہزادوں اور بادشاہوں کی چھوٹی بڑی ریاستوں پر مشتمل تھا۔ حیدرآباد دکن، جو فرانس جتنا بڑا تھا، انڈین یونین کا حصہ نہیں تھا، اس کا حکمران مسلمان تھا جبکہ رعایا کی اکثریت ہندو تھی۔ جوناگڑھ، کشمیر اور پٹیالہ وغیرہ سب آزاد ریاستیں تھیں۔ پٹیل نے انہیں طاقت کے زور پر ہڑپ کیا۔
قبل از مسیح کے دور میں بھی انڈیا کوئی ہندو ملک نہیں تھا۔ موریا سلطنت زیادہ تر بدھ مت پر مبنی تھی، وہاں جین مت کا بھی غلبہ تھا۔ برہمن ازم (ہندو مت) تیسرے نمبر پر تھا۔ اشوک نے انڈیا میں بدھ مت کے فروغ کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ اشوک کے اخلاقی ضابطے کا سنگ بنیاد تمام مذاہب کے پرامن بقائے باہمی پر تھا۔ مودی انڈیا کی امن و رواداری پر مبنی بہترین تاریخی روایات کو مٹا رہے ہیں۔ آج معاشرہ تقسیم ہو چکا ہے اور اسے نفرت کی بنیاد پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔
نہرو، گاندھی اور آزادی کی تحریک کی قیادت کرنے والے ان کے تمام ساتھی (بجز مسلم دشمن ہوم منسٹر ولبھ بھائی پٹیل کے) سیکولر تھے۔ انہوں نے کبھی ہندو انڈیا کے تصور کی حمایت نہیں کی۔ پٹیل کا تعلق بھی گجرات سے تھا اور وہ آر ایس ایس کے فعال حامی تھے۔ وہ مسلمانوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے کی وجہ سے گاندھی اور نہرو کو ناپسند کرتے تھے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ وہ آر ایس ایس کا ہی ایک فعال رکن نتھورام گوڈسے تھا، جس نے چند گولیوں سے گاندھی کا قصہ تمام کر دیا۔ تاریخ کے طالب علم کے طور پر میرا گمان ہے کہ اگر ولبھ بھائی پٹیل مزید کچھ عرصہ زندہ رہتے تو نہرو کو بھی پٹیل کی رہنمائی میں آر ایس ایس کے ہاتھوں قتل کر دیا جاتا۔
مودی اور ان کے داغدار کابینہ ساتھی (اور گہرے دوست) امیت شاہ آر ایس ایس کی حقیقی اولاد اور مسلم دشمنوں کے سرپرست ہیں۔ دونوں نے مسلمانوں، بدھ متوں، جینیوں اور عیسائیوں سمیت اقلیتوں کے بڑے پیمانے پرقتل عام کی صدارت کی ہے۔ انڈیا کا سیکولر ڈھانچہ، جس پر ملک کو چند دہائیاں پہلے تک فخر تھا اب بھارتی معاشرے کا سب سے زیادہ مذہبی طور پر متعصب حصہ بن چکا ہے۔ سیکولرزم کے پرخچے اڑ چکے ہیں۔
مودی کی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش ان پر اس طرح الٹ گئی ہے کہ اب ان کی اپنی ناک لہولہان ہے۔ پہلگام کے ڈرامے اور اس کے بعد فضائی جھڑپ، جس میں پاکستان نے 5 بھارتی طیارے (بشمول رافیل جسے ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا) مار گرائے، اس کے بعد سے مودی کی مقبولیت گر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی روایتی فیاضی میں گرائے گئے رافیل طیاروں کی تعداد 11 تک پہنچا دی ہے۔ پاکستان کے لیے اپنی نئی محبت میں انہوں نے براہِ راست اور بالواسطہ مودی کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔
انڈیا آج مکمل تنہائی کا شکار ہے۔ نیتن یاہو سے ہاتھ ملانے اور ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مودی کے تباہ کن فیصلوں کے بعد عالمی برادری انہیں ایک قابلِ بھروسہ فریق کے طور پر نہیں دیکھتی۔ پائیدار امن کے حصول کے لیے مودی کی شدید ناپسندیدگی کے باوجود پاکستان خطے میں ایک وفادار اور قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے۔ پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ہمارے سپاہی اور ساز و سامان پہلے ہی سعودی سر زمین پر موجود ہیں۔
جب پاکستان نے ایران امریکہ مذاکرات کی میزبانی کی تو انڈین ٹی وی چینلز کے اینکرز آپے سے باہر ہو گئے، ان میں سے ہر ایک سامعین کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ واقعی چارلس ڈاروین کے نظریہ ارتقاء کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ وہ اسٹوڈیو میں بے شرمی سے پاکستان کی مخالفت میں اچھل کود کر رہے تھے لیکن اب تمام توپوں کا رخ مودی اور ان کی نااہلیوں کی طرف ہے، جس کی وجہ سے انڈیا بین الاقوامی سطح پر تنہا ہو چکا ہے۔
پاکستان کی سفارت کاری آج اپنے عروج پر ہے، جیسا کہ 1974 میں لاہور اسلامی سربراہی کانفرنس کے وقت تھی۔ انڈین میڈیا اب پاکستان کی تعریف کر رہا ہے، اس لیے نہیں کہ وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں بلکہ نریندر مودی پر تنقید اور ملامت کرنے کے لیے۔ مودی بہت زیادہ غیر مقبول ہو چکے ہیں، جس کا اعتراف کرنے سے وہ انکاری ہیں۔ وہ انتقام پسند ہیں اور پچھلے اپریل میں پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی ہزیمت کے زخم چاٹ رہے ہیں۔
اگر آج اچانک انتخابات کرائے جائیں تو مودی یقینی طور پر ہار جائیں گے۔ لہذا ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ عہدے سے الگ ہو جائیں اور امیت شاہ کو بھی اپنے ساتھ سیاسی گمنامی کے اندھیروں میں لے جائیں۔ اگر کوئی ایسا نوجوان ہے جو مودی کے جھوٹے پروپیگنڈے اکھنڈ بھارت کے سراب یا ہندو برتری کے زہر سے متاثر نہیں ہے تو اسے آگے آنا چاہیے، تاکہ انڈیا کو دوبارہ پنچ شیل اور سیکولرزم کے نظریات کی طرف لے جایا جا سکے۔
تاریخ کے بارے میں مودی کا نظریہ اتنا متعصب ہے کہ وہ مسلمانوں کو حملہ آوروں کی اولاد سمجھتے ہیں۔ انہیں اپنے ہی ہم وطن ششی تھرور کی وہ تقریر سننی چاہیے کہ اسلام کیرالہ میں کیسے آیا، تاکہ ان کی تاریخی حس درست ہو سکے۔
ذہین لیڈر جانتے ہیں کہ اسٹیج کی روشنیاں کب مدھم ہونے والی ہیں۔ جدید سنگاپور کے معمار لی کوان یو نے نوجوانوں کو جگہ دینے کے لیے رضاکارانہ طور پر عہدہ چھوڑ دیا۔ ڈینگ ژیاؤ پنگ پیچھے ہٹ گئے۔ ایران کے شہنشاہ رضا پہلوی، فلپائن کے فرڈینینڈ مارکوس اور حال ہی میں حسینہ واجد نے ضد دکھائی اور اقتدار سے چمٹے رہے، پھر وقت کے پہیے نے انہیں ذلت کے ساتھ ہٹا دیا۔
نریندر مودی کے دور میں انڈیا اپنا کردار اور شناخت کھو چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارتی عوام اس طویل مدتی نقصان کا ادراک کریں جو ان کا وزیر اعظم سماجی ڈھانچے کو پہنچا رہا ہے۔ تاریخ میں کوئی ایسا معاشرہ جو نفرت پر پلتا ہو کبھی ترقی یا استحکام حاصل نہیں کر سکا ہے۔ فطری انصاف غلطیوں کی اصلاح کا تقاضا کرتا ہے۔ انڈیا کی بربادی کو اب انڈیا کے لوگوں کو خود روکنا ہوگا، جو کہ اکثریت میں امن پسند ہندو ہیں اور ہندو مت کا بنیادی اصول اہنسا یعنی عدم تشدد ہے۔
نریندر مودی اور امیت شاہ کو تمام ہندو انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر دیوار پر لکھا پڑھ لینا چاہیے۔ اگر انہوں نے نئی اور روشن خیال قیادت کے لیے راستہ صاف نہ کیا تو تباہی سامنے کھڑی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر 29 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
















